کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 113

’’مارأیت اکثر تبسما من رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مسکراتا ہوا چہرہ نہیں دیکھا۔‘‘ شکریہ ادا کرنا یہ جو ہم لوگ بات بات پر شکریہ ادا کرنے کے عادی ہیں، تو یہ خالص اسلامی بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’من لم یشکر الناس لم یشکر اللّٰہ‘‘ یعنی جو انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا۔ اسلام نے آدابِ معاشرت کے جو خطوط متعین کیے ہیں، ان کا مقصد دوسروں کو راحت پہنچانا ہے۔ اور معاشرے میں خوشگواری پیدا کرنا ہے۔ اسی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَفْشُوا السَّلامُ‘‘ سلام پھیلاؤ ایک دوسرے کو سلام کرنے میں بخل نہ کرو۔ قرآن مجید میں ہے [وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا ؀] ’’جب تمہیں سلام کیا جائے، تو تم اس سے زیادہ گرم جوشی تپاک سے جواب دو یا کم از کم اتنا تو ضرور لوٹادو‘‘۔(النساء86) میں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بعض اساتذہ کو دیکھا ہے کہ اگر کوئی طالب علم انہیں سلام کرے تو فیلٹ کے ساتھ گردن کو ذرا سا جھٹکا دیتے ہیں اور ہونٹوں کو جنبش دینا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ان کا یہ عمل غیر اسلامی ہے اور ہرگز لائقِ تحسین نہیں۔ یہ سب (Complexes) کی باتیں ہیں۔ میں نے ایک بار امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ کی کتاب مفردات میں سلام کا معنیٰ دیکھا اس میں لکھا ہے:

  • فونٹ سائز:

    ب ب