کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 118

اسلام نے مجلس میں بیٹھ کر سرگوشی کرنے کو بھی مذموم قرار دیا ہے۔ سورۂ مجادلہ میں ہے: [اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيْسَ بِضَاۗرِّهِمْ شَـيْـــــًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ][المجادلۃ:10] ترجمہ:’’بلاشبہ سرگوشی کرنا شیطان کا کام ہے تاکہ ان لوگوں کو غمزدہ بنادے جو ایمان لائے ہیں، حالانکہ اللہ کے اذن کے بغیر وہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور ایمان والوں کو تو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔‘‘ جب دو آدمی مجلس میں بیٹھ کر سرگوشی کرتے ہیں تو دوسروں کو خیال آتا ہے کہ شاید ہماری ہی نسبت کچھ کہہ رہے ہیں، کم از کم یہ گمان تو ہوتا ہی ہے کہ انہوں نے ہمیں اس قابل نہ سمجھا کہ ہمیں اس راز میں شریک کریں، چونکہ اہل مجلس کو اس سے خفت ہوتی ہے، اس لئے مجلس میں بیٹھ کر سرگوشیاں کرنے کو اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے۔ آج کل کی مہذب اور متمدن قوموں کے افراد گفتگو دھیمی آواز میں کرتے ہیں اور چیخ چیخ کر بات کرنے کو ناشائستگی سمجھتے ہیں۔ یہ خیال نہ کیجئے کہ دھیمی آواز میں بات چیت کرنا نئی تہذیب کی پیداوار ہے۔ قرآن مجید نے اندازِ گفتگو کا سلیقہ بھی ہمیں سکھایا ہے: [وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ ؀ۧ ] [لقمان19] اور اپنی آواز پست کرو ۔ بلاشبہ سب آوازوں سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔ مجلس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیٹھنے کے آداب بھی قرآن مجید نے سکھائے۔ [يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ] [الحجرات:2] ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ہی اس کے سامنے اس طرح اونچی آواز سے بولو جیسے تم ایک دوسرے سے بولتے ہو ۔‘‘ اور یہ بھی فرمایا: [اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى] [الحجرات:3] ترجمہ: ’’جو لوگ اللہ کے رسول کے حضور اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب