کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 119

دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے۔‘‘ یہ سمجھنا صریحاً خام کاری ہے کہ قرآن مجید نے مجلس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جن آداب کو ملحوظ رکھنے کی تلقین کی ہے، ان کا تعلق صرف مجلسِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے تھا۔ کیا مجلسِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُٹھ جانے کے بعد یہ آیتیں معطل ہوگئی ہیں اور ان کی کوئی افادیت باقی نہیں رہی۔۔۔؟ بزرگوں کی مجلس میں بیٹھنے کے آداب ہمیں مجلسِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سیکھنا ہیں اور بزرگوں کو اہلِ محفل سے برتاؤ کا ڈھنگ بھی بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سیکھنا چاہیے۔ ہم شمائلِ ترمذی میں پڑھتے ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہم نشینوں میں سے ہر ایک کو اس کے حصے سے نوازتے ہیں یعنی ہر ایک کی طرف جدا جدا التفات فرماتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ایک ہمنشیں یہ سمجھتا کہ مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی عزیز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ رُو اور نرم خو تھے۔ سخت مزاج اور درشت گو نہ تھے، چلّا کر نہیں بولتے تھے، نہ کسی کے عیب نکالتےتھے ، کسی کی تعریف میں مبالغہ نہیں کرتے تھے۔ کسی کی کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار ہوتی، تو اس سے تغافل فرماتے یعنی اس پر گرفت نہ فرماتے اور صراحتاً اس سے مایوسی بھی نہ فرماتے بلکہ خاموش ہوجاتے۔‘‘ بے جا مداخلت نہ کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد آدابِ معاشرت کا ایک زریں اصول ہے: ’’من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہٖ‘‘  آدمی کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ غیر متعلق بات میں دخل نہ دے۔ دوسروں کے معاملات میں بے جا دخل دینے کی بیماری عورتوں میں نسبتاً زیادہ ہے۔ دوسروں کے ذاتی اور گھریلو معاملات کرید کرید کر پوچھنے میں انہیں لذت آتی ہے۔ چھپی ہوئی باتوں کی ٹوہ لگاتی

  • فونٹ سائز:

    ب ب