کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 120

ہیں۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ چھوٹتے ہی پوچھتے ہیں کہ تمہاری آمدنی کتنی ہے؟ بعض لوگ فریقین کی خواہش اور اور آمادگی کے بغیر خود بخود ہی ثالث بن بیٹھتے ہیں۔ یہ سب باتیں بے جا دخل اندازی میں داخل ہیں اور اسلام انہیں مذموم قرار دیتا ہے۔ قرآن حکیم ہمیں حکم دیتا ہے کہ: [وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا] [البقرہ:83] لوگوں سے بھلی اور خوشگوار بات کہو، اور مومنوں کا یہ وصف بھی بیان کرتا ہے : [ وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ۝ۙ][المومنون:3] اور جو بیہودہ باتوں سے دور رہتے ہیں۔ بات ٹھہر ٹھہر کر کیجئے ! میرے ایک عزیز کہنے لگے کہ جدید رجحان تو یہ ہے کہ بات کرتے وقت ہر لفظ بلکہ ہر حرف کا تلفظ صاف، واضح(Clearly) اور جدا جدا (Distinctly) کیا جائے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ رجحان کیوں کر ہوا؟ اس کی تلقین تو خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم حدیث میں پڑھتے ہیں کہ: ’’کان کلام رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کلاما فصلا یفھمہ کل من سمعہ‘‘  ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کرتے تو ہر لفظ جدا جدا بولتے۔ تمام لوگ جو اسے سنتے وہ سمجھ جاتے۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پہلو میں بیٹھ کر سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بڑی تیزی کے ساتھ حدیث بیان کرنا شروع کی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ٹوکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس تیزی کے ساتھ گفتگو نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اس طرح ٹھہرٹھہر کر بات کرتے کہ اگو کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب