کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 124

(1)اگر کسی کے ہاں آپ مہمان ٹھہریں اور آپ کھانا کھاچکے ہوں تو دسترخوان بچھ جانے پر یہ اطلاع دینا کہ کھانا کھاچکا ہوں، مذموم ہے۔ میزبان انتظام کی زحمت اٹھاتا ہے اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا اہتمام اور طعام دونوں اکارت گئے۔ (2)اگر کوئی صاحب بیمار ہوں اور پرہیزی کھانا کھاتے ہوں، تو دسترخوان بچھ جانے کے بعد ناک چڑھانا اور نخرےبگھارنااور یہ کہنا کہ میں تو پرہیزانہ کھاتا ہوں، میزبان کے لئے خجالت کا باعث ہوتا ہے، آپ کسی کے مہمان ٹھہریں، تو جاتے ہی صاحبِ خانہ کو بتادیجئے کہ آپ پرہیزانہ کھاتے ہیں۔ (3)بعض لوگ کسی کے ہاں ٹھہرتے ہیں تو دھڑلے سے اوروں کو بھی دسترخوان کی طرف بلاتے ہیں۔ مہمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اوروں کو دعوت دیتا پھرے، اسے کیا خبر کہ گھر میں کھانا کتنا ہے؟پھر اسے اس بات کا استحقاق بھی تو نہیں، یہ غیر متعلق بات میں دخل دینا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس کا تلخ تجربہ ہے۔ میری ایک عزیزہ سفر پر جارہی تھیں، بہت سے قرابت دار انہیں خیرباد کہنے کے لئے میرے ہاں آئے ہوئے تھے، میں نے عزیزہ سے کہا کہ تم کھانا کھالو، گاڑی کا وقت ہوا چاہتا ہے، ایک بڑی بوڑھی خاتون نے اعلان کردیا کہ ہم کھانا کھانے لگے ہیں، جو شریک ہوناچاہتا ہے ساتھ کے کمرے میں آجائے، کمرہ کھچاکھچ بھرگیا، سارے گھر کا کھانا دسترخوان پر لاپڑا، عزیزہ کے لئے جوزادِ سفر تیار تھا، وہ بھی لایاگیا، سب کے حصے میں دو دو لقمے آئے۔ سب شرمندہ ہوئے۔ (4)بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ کوئی شخص کسی کے ہاں مدعو ہو تو کہتے ہیں کہ ہمارے بھی ان سے مراسم ہیں۔ چلیے ہم بھی ساتھ چلتے ہیں۔ ان سے مل کر دسترخوان بچھنے سے پہلے ہی لوٹ آئیں گے، یہ عادت بھی مذموم ہے اور صاحبِ خانہ کے لئے باعث تشویش ہے۔ اگر صاحب خانہ بٹھالے تو ان کے لئے یکایک کھانا مہیا کرنے کی تکلیف ہوتی ہے اور کبھی تو سالنوں میں پانی انڈیلنا پڑتا ہے۔ اگر صاحب خانہ رخصت کردے، تو اسے شرمندگی اور خجالت ہوتی ہے اور اسلامی نقطۂ نظر سے دوسروں کے لئے اذیت کا باعث ہونا یا خجالت کا باعث ہونا یکساں مذموم اور ممنوع ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب