کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 131

استئذان کی اقسام بنیادی طور پر ہم استئذان کو دو قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ 1 باہر سے آنے والے اجنبی فرد کا اجازت لینا یہ وہ قسم ہے جس کو استئذان عام کہا جاتا ہے جو کہ باہر سے آنے والے اجنبی لوگوں کا ایک دوسرے سے اجازت طلب کرنے کے لئے ہو تا ہے ۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ یہاں اجازت لینا واجب ہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا][النور:27] ترجمہ:اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ ان کی رضا حاصل نہ کرو اور گھر والوں پر سلام نہ کرلو۔ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے توقع ہے کہ تم اسے یاد رکھو (اور اس پر عمل کرو) گے۔ اور پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن ہے : "إذا استأذن أحدكم ثلاثاً، فلم يؤذن له فليرجع" ترجمہ: جب تم میں سے کوئی تین مرتبہ اجازت لے اور سے اجازت نہ ملے تو اسے چاہئے کہ لوٹ جائے ۔ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث کی رو سے اگر اذن نہ ملنے کی صورت میں لوٹ جانے کا حکم اس لئے ہے کہ (گھر میں داخلے کے لئے ) اجازت لینا واجب ہے ۔ 2گھر میں موجود فرد کا کسی کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا : یہ وہ قسم خاص ہے جو کہ گھر کے اند ر لی جاتی ہے اس کا بھی حکم چند صورتوں میں واجب کا ہے ۔جس کی دلیل قرآن کریم کی آیت : { يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ۭ ]۔۔۔۔[النور: 58]

  • فونٹ سائز:

    ب ب