کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 136
قرون مفضلہ میں معلم انسانیت اورہادی و مربی اکبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عظیم صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اور اپنی امت کی اسی منہج پر تربیت کی مؤطا امام مالک میں روایت ہے کہ ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنی والدہ سے بھی اجازت لوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں۔ جب بھی گھر میں داخل ہوتو اپنی والدہ سے اجازت لو ۔اس نے جواباً کہا :میں گھر میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتا ہوں !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تم اذن لے کر داخل ہوا کرو ، اس نے جواب دیا کہ میں ہی اپنی والدہ کی ہمیشہ خدمت کرتا ہوں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : تم ضرور اجازت لیا کرو کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تم اپنی والدہ کو مکروہ حالت میں دیکھو؟ تو اس صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراًکہا نہیں!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اب ضرور اجازت لیا کرو ں گا۔  عطاء فرماتے ہیں میں نے ابن عباس سے پوچھا: ’’أأستأذن علی أختی، فقال: نعم؛ فأعدتُ، فقلتُ: أختان فی حجری، وأنا أموّنہما، وأنفق علیہما، أستأذن علیہما، قال: نعم، أتحبّ أن تراہما عریانتین‘‘ ترجمہ: ’’ کیا میں اپنی بہن سے بھی اجازت لے کر داخل ہوا کروں ؟تو انہوں نے کہا : ہاں ۔ میں نے دہرایا کہ : میں اپنی دو بہنوں کے ساتھ رہتا ہو ں اور ان کی سرپرستی اور ان کی دیکھ بھال بھی کرتاہوں تب بھی اجازت لوں ؟ تو جواب ملا کہ : ہاں کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تم انہیں نامناسب حالت میں دیکھ لو؟؟؟‘‘ معلوم ہو کہ جب بھی گھر میں یا کمرہ میں داخل ہوں تو ضرور بضرور اجازت لینی چاہئے اور اس وقت تک داخل نہ ہوں جب تک اجازت نہ مل جائے یہی دین حنیف ہے اسی میں حفظ النفوس اور حفظ عزت و عفت ہے یہی عالی اخلاق کا مظہر جس پر عائلی زندگی بھلائی تقویٰ اور محبت و مودت پر قائم رہ سکتی ہے۔ 3 اجازت کے لئے کیاطریقہ اختیار کیا جائے؟ استئذان کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کسی جگہ جانا ہو تو سب سے پہلے آنے والے کو چاہئے