کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 137
کہ وہ لطف و آر ام سے دروازے کو کھٹکھٹائے جس سے گھر والوں پر کسی قسم کاازعاج و تشویش نہ ہو۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے کو ہم اپنے ناخن سے بجاتے اور پھر تین بار اجازت لیتے تھے ‘‘۔  امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "وہذا محمول منہم علی المبالغہ فی الأدب وہو حسن لمن قرب محلہ من بابہ ، أما من بعد عن الباب بحیث لایبلغہ صوت القرع بالظفر فیستحب أن یقرع بما فوق ذلک بحسبہ" أہـ ترجمہ: یہ عمل ان کے عالی ادب و اخلاق کا مظہر ہے جو کہ قریب دروازہ کے لئے بہتر ہے لیکن جہاں دروازہ گھر سے دور ہو وہاں حسب ضرورت زور سے دروازہ بجایا جاسکتا ہے ۔ لہٰذا دروازہ بجانے کے بعد تھوڑا انتظار کیا جائے اور اس بات کا یقین کر لیا جائے کہ گھر والوں نے اگر نہیں سنا تو دوبارہ بجانا چاہئے اوراسی طرح مزید انتظار کرکے تیسری مرتبہ بجایا جائے ۔ 4 اجازت یا جواب نہ ملنےپر کیا کیاجائے ؟ اگراجازت لینے اور دروازہ بجانے یا کھٹکھٹانے کے باوجود کوئی جواب نہ ملے تو گھر میں داخل نہیں ہونا چاہئے بلکہ لوٹ جانا چاہئے اور یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ﴿فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْہَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْہَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ ۚ وَاِنْ قِیْلَ لَکُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا ہُوَ اَزْکٰی لَکُمْ ۭ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ؀﴾ [النور: 28] ترجمہ: پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ تو جب تک تمہیں اجازت نہ دے اس میں داخل نہ ہونا۔ اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آؤ۔ یہ تمہارے لئے زیاد ہ پاکیزہ طریقہ ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اس بات کی طرف نشاندہی کی گئی ہے کہ بالفرض آنے والے کو واپس جانے کا کہاجائے تو واپس لوٹ جانا چاہئے اس میں کسی قسم کا کوئی حرج و اثم نہیں ہے مثلا ًاگرگھر والے اندر موجود ہوں اورخود ہی یہ کہیں کہ آپ واپس لوٹ جائیں تو بغیر کسی غم و غصہ کے واپس لوٹ جانا چاہئے یہی نفوس کے لئے اطیب و ازکیٰ ہے اور اس بات پر اپنے دل کو اطمئنان دلانا چاہئے کہ ہر کسی کو اعذار واسرار لاحق ہوسکتے ہیں اور یہ بات جان لینی چاہئے کہ یہ گھر والوں کا حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے برقرار رکھا اور اس کی مذمت نہیں فرمائی اللہ تعالی کا فرمان ہے:﴿ وَاِنْ قِیْلَ لَکُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا ہُوَ اَزْکٰی لَکُمْ ﴾ [النور: 28]