کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 139

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں انصار کی ایک مجلس میں تھا۔ تو ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھبرائے ہوئے آئے اور کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے تین بار اجازت ما نگی مگر اجازت نہیں ملی تو میں واپس لوٹ گیا پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تمہیں اندر آنے سے کس چیز نے روکا؟ میں نے کہا کہ میں نے اجازت مانگی لیکن آپ نے اجازت نہ دی اس لئے میں واپس لوٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور اس کو اجازت نہ ملے تو اس کو لوٹ جانا چاہئے۔ جناب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تم کو اس پر گواہ پیش کرنا ہوگا اور ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا تم میں سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فرمان کو سنا ہے ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ بخدا تیری گواہی کے لئے قوم کا کمسن شخص کھڑا ہوگا۔ راوی کا بیان ہے کہ میں اس وقت سب سے کمسن تھا میں ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر دی کہ جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے ۔ ایک روایت میں الفاظ ہیں یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ أَخَفِيَ هَذَا عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ (يَعْنِي الخُرُوجَ إِلَى تِجَارَة) أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ . ترجمہ: مجھ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بازار میں خرید و فروخت کی وجہ سے پوشیدہ رہی۔ علامہ ابن عاشور رحمہ اللہ کہتے ہیں اس حدیث سے واضح ہوا کہ استئذان میں تین حالات ہوسکتےہیں: اذن [اجازت حاصل ہوجائے] ۔ معذرت کی جائے [منع کردیا جائے] کوئی جواب نہ ملے ( خاموشی ہو )

  • فونٹ سائز:

    ب ب