کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 143

والے کے لئے تکلیف کا باعث ہوں اور یہی استئذان کی علت ہے کہ نظر نہ پڑنے پائے ‘‘۔ اور یہ عظیم تربیت ِاسلام ہے کہ نظر کی حفاظت کی جائے کیونکہ نظر ان وسائل میں سے ہے جس سے ایسےفتنے جنم لیتے ہیں جو معاشرے میں بگاڑپیدا کرتے ہیں اسی خطرہ کے پیش نظر اگر صاحب بیت کسی جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دے تو اس پر کوئی حرج اور جرمانہ نہیں ۔ سیدنا ابوهریرة رضی اللہ عنہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں : ’’مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ مِنْ غَيْرِ إِذْنِھِمْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَئُوا عَيْنَهُ" ترجمہ: جو شخص کسی کے گھر میں جھانک رہا ہو تو گھر والوں کے لئے حلال ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں‘‘۔ سیدنا سھل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں جھانک رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کنگھا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنگھی فرما رہے تھے اس شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ فرما یا:’’ اگر میں یہ جان لیتا کہ تم اس طرح جھانک رہے ہو تو میں یہ کنگھا تمہاری آنکھ میں مار دیتا اجازت طلب کرنے کا سبب یہی نظرہے ‘‘۔ ایک اور روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اگر کوئی شخص تمہارے گھر میں بغیر اجازت کے جھانک رہا ہو اور تم نے اس کی آنکھ پتھر سے پھوڑدی تو تم پرکوئی حرج (گناہ ) نہیں‘‘ ۔ امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ مَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنْ قَاعَةِ بَيْتٍ فَقَدْ فَسَقَ‘‘ ترجمہ: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا ’’جس شخص نے اپنی آنکھ کسی گھر کی جھانک تانک سے بھر لی پس وہ فاسق ہوگیا‘‘ اور آیت استئذان کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے [وَاللَّهُ بِما تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ] فرماکر تنبیہ کرادی ان

  • فونٹ سائز:

    ب ب