کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 146

گھر کے اندر اجازت لینے سے متعلق چند اہم گذارشات : اس کے بعد سورۃ النور میں استئذان خاص کے تعلق سے اللہ تعالی نے تین اوقات میں بغیر اجازت کے داخل ہونے سے منع فرمایا ہے اور وہ اس آیت کریمہ میں ذکر ہیں : [ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ۭ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَحِيْنَ تَضَعُوْنَ ثِيَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِيْرَةِ وَمِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَاۗءِ ڜ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ ۭ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ ۭ طَوّٰفُوْنَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭكَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ؀ وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُوْاكَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ؀] [النور58-59] ترجمہ: اے ایمان والو! تمہارے غلاموں اور ان لڑکوں پر جو ابھی حد بلوغ کو نہ پہنچے ہوں، لازم ہے کہ وہ (دن میں) تین بار اجازت لے کر گھروں میں داخل ہوا کریں۔ نماز فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جب تم کپڑے اتارتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد یہ تین اوقات تمہارے لئے پردہ کے وقت ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ (دوسرے وقتوں) میں ان کو بلااجازت آنے جانے سے نہ ان پر کچھ گناہ ہے اور نہ تم پر، تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی پڑتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے ارشادات کی وضاحت کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔ مندرجہ بالا آیات استئذان خاص کے احکام سے متعلق نازل ہوئیں اس میں تین اوقات کا ذکر ہے جن میں بغیر اجازت کے داخل ہونا منع قرار دیا ہے : 1 فجر کی نماز سے پہلے جب انسان اپنے بسترے سے اٹھتا ہے اور اپنے رات کے لباس کو تبدیل کرکے دن کا لباس پہننا چاہتا ہے ۔ 2 ظہر کا وقت جب لوگ قیلولہ کرتےہیں ۔ 3 نماز عشاء کے بعد جب لوگ اپنے لباس کو اتارنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور سونے کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب