کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 148

(5) اجازت لیتے وقت اپنا نام بتانا چاہئے اور دروازے کے سامنے کھڑا نہیں ہونا چاہئے ۔ (6) اجازت لینے کے لئے گھر کے مالک اور قائم مقام کی اجازت معتبر ہے ۔ (4) انسان داخل ہوتے وقت اپنی نگاہ نیچے رکھے کیونکہ استئذان کی علت نظر ہی ہے ۔ (5) داخل ہوتے وقت تحیۃ الاسلام ہی اپنائے دیگر الفاظ جیسے صبح بخیر، ھیلو وغیرہ سے مکمل پرہیز کریں کیونکہ اللہ تعالی نے ’’تسلموا ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ’’السلام علیکم‘‘ہی سکھلایاہے۔ (6)جہاں گھر والے بیٹھنے کا کہیں وہیں بیٹھنا چاہئے اس سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے اور اگر مجلس میں آئیں تو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں صحابہ کرام فرماتے ہیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو وہیں بیٹھ جاتے جہاں جگہ میسر ہوتی۔ (7) کسی کو اٹھا کر نہیں بیٹھنا چاہئےحدیث میں فرمان ہے ’’ کوئی آدمی کسی کو اٹھا کر خود نہ بیٹھے‘‘ (8)دو آدمیوں کے درمیان بغیر اجازت نہ بیٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’کسی آدمی کو جائز نہیں کہ وہ بلا اجازت دو آدمیوں کے درمیان بیٹھ کر ان میں جدائی ڈال دے۔ (9) اپنے لئے لوگوں کا احتراما ً کھڑا ہونے کے عمل سے احتراز کرنا چاہئے :پیارے پیغمبر کا فرمان ہے: جو ’’شخص اس بات سے خوش ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے‘‘ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں شرعی آداب اپنانے کی توفیق عطا فرمائے فإن أصبت فمن الله وإن أخطأت فمني ومن الشيطان وما توفيقي إلا بالله و صلى الله تعالى على نبينا محمدوالہ وصحبہ أجمعین

  • فونٹ سائز:

    ب ب