کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 151
ویکبر الناس بتکبیرہما‘‘ یعنی عبد اللہ بن عمر و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما عشرۃ ذی الحج میں بازار کی جانب نکل کر تکبیرات کہتے اور لوگ بھی ان کی آواز سن کر تکبیرات کہنے لگ جاتے ۔ اسی طرح مؤطا سیدنا امام مالک بن انس رحمہ اللہ میں یہ واقعہ موجود ہے کہ أن الطفیل بن أبی بن کعب أخبرہ أنہ کان یأتی عبد اللہ بن عمر , فیغدو معہ إلی السوق، قال: فإذا غدونا إلی السوق، لم یمر عبد اللہ بن عمر علی سقاط، ولا صاحب بیعة، ولا مسکین، ولا أحد إلا سلم علیہ، قال الطفیل: فجئت عبد اللہ بن عمر یوما , فاستتبعنی إلی السوق، فقلت لہ: وما تصنع فی السوق؟ وأنت لا تقف علی البیع، ولا تسأل عن السلع، ولا تسوم بہا، ولا تجلس فی مجالس السوق؟ قال: وأقول:اجلس بنا ہاہنا نتحدث، قال: فقال عبد اللہ بن عمر:یا أبا بطن، وکان الطفیل ذا بطن، إنما نغدو من أجل السلام، نسلم علی من لقینا. ترجمہ: تابعی طفیل بن ابی بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کے پاس جاتا، وہ مجھے بازار لیکرجاتے اور وہ جس کے پاس سے بھی گزرتے، اُسے سلام کرتے ، ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو حسبِ عادت انہوں نے مجھے بازار چلنے کو کہا، میں نے عرض کی کہ بازار جاکر کیا کرنا ہے ؟ آپ نہ کوئی چیز خریدتے ہیں نہ بھاؤ معلوم کرتے ہیں تو بازار جانے کا کیا فائدہ ؟ ہم گھر بیٹھ کر ہی گفتگو کر لیتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا:’’ہمارا بازار جانا صرف اس لئے ہے کہ ہمیں بازار میں جو بھی ملے ہم اسے سلام کریں گے ۔‘‘ معلوم ہوا خرید و فروخت یا امور دینیہ/ امور خیر کی انجام دہی کیلئے بازار جانا معیوب نہیں ہے۔