کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 152

عہد رسالت کے بازار اگر کتبِ احادیث کی ورق گردانی کی جائے اور عہد رسالت کے بازار کے متعلق وارد احادیث کا جائزہ لیا جائے تو بازار میں احکام شرعیہ کے نفاذ کے حیرت انگیز واقعات سے واقفیت ہو جاتی ہے اور آدمی دنگ رہ جاتا ہےکہ اس دور میں بھی نفاذ شریعت کا کس قدر اہتمام تھا۔ چند واقعات ملاحظہ ہوں : سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’کنا فی زمان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبتاع الطعام فیبعث علینا من یأمرنا بانتقالہ من المکان الذی ابتعناہ الی مکان سواہ قبل ان نبیعہ‘‘ یعنی ایک( خاص قسم کی) بیع کو حکمِ نبوی کے مطابق بنانے کیلئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کو (بازار) بھیجتے اور وہ لوگوں کو اس چیز کا حکم دیتا رہتا ۔ جبکہ صحیح مسلم ہی میں یہ حدیث بھی موجود ہے، صحابی فرماتے ہیں کہ: ’’قدر رأیت الناس فی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا یبتاعوا طعاما جزافا یضربون‘‘ یعنی عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں خلافِ حکم نبوی بیع کرنے پر لوگوں کو سزا دی جاتی تھی۔ مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری رحمہا للہ اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وفی قولـہ ’’یضربون‘‘ دلیل علی ان مشروعیۃ تادیب من یتعاطیٰ العقود الفاسدۃ واقامۃ الامام علی الناس من یراعی احوالھم فی ذٰلک  یعنی اس حدیث میں موجود یہ لفظ ’’یضربون ‘‘ اس بات پر دلیل ہے کہ جو شخص کسی بیع فاسدہ کا ارتکاب کرے اس کے خلاف تادیبی کاروائی ہونی چاہئے اور امام کو چاہئے کہ وہ ایسے اشخاص کی تقرری کرے جو اس حوالے سے عوام الناس کی نگرانی کریں ۔ عہد رسالت میں تو بعض اوقات خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بازار نکل جاتے اور تجار کو خصوصی نصائح فرماتے کہ تم سے دوران تجارت کو تاہیاں سرزد ہو جاتی ہیں لہٰذاتم صدقہ کیا کرو تا کہ یہ صدقہ تمہاری ان

  • فونٹ سائز:

    ب ب