کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 153

کوتاہیوں کا کفارہ بن جائے جبکہ سنن اربعہ میں یہ واقعہ بھی موجودہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بازار تشریف لے گئے اور ایک جگہ ایک شخص کے پاس رک گئے ، وہ کوئی چیز ڈھیر کی صورت میں فروخت کر رہا تھا ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھیر میں اپنا مبارک ہاتھ ڈالا اور باہرکھینچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ پر تری لگ گئی یعنی وہ شخص اس چیز کو اندر سے گیلا اور باہر سے خشک کرکے فروخت کر رہا تھا ، اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر اس شخص کی سخت سرزنش کی۔ عہد رسالت میں بازار کی اس قدر نگرانی، یہی وجہ تھی کہ اس دور میں بازار کا ماحول انتہائی ایماندارانہ بنتا چلا گیا، ایک مثال ملاحظہ ہو : حبان بن منقذ بن عمرو نامی ایک تاجر کسی غزوہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوا،دوران قتال اسے سر میں چوٹ آئی جس سے اس کے دماغ اور زبان پر بڑا اثر پڑا ، واپسی پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی کیفیت بتائی اور تجارت میں خدع کے خدشہ کا اظہار کیا صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک اصول سمجھایا کہ تم جب بھی خرید و فروخت کرو تو یہ جملہ کہہ دیا کرو کہ ’’ولا خلابۃ‘‘ یعنی میرے ساتھ دھوکہ نہیں ہونا چاہئے ( اس لئے کہ میں معذور ہوں ) یعنی یہ لفظ بازار میں اس کیلئے دھوکہ و فریب سے حفاظت کی علامت بن گیا ۔ سبحان اللہ ! عہد رسالت کے بازار کا ماحول کس قدر صافی و پاکیزہ تھا ۔ یہ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا اثر تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بازار جاکر باقاعدہ خریدو فروخت کے متعلق وارد ا حادیث پر بازار ہی میںعمل کرتے تھے اور ان احادیث کا تعارف کراتے تھے۔ دو واقعات پیشِ خدمت ہیں ۔ صحیح مسلم میں وارد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں کوئی چیز خرید کرکے وہیں پڑے پڑے اس چیز کو آگے فروخت کرنے سے منع اور اس چیز کو اٹھا کر اس کی جگہ منتقل کرنے کا حکم وارد ہے ، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس حدیث پر کس طرح عمل پیرا ہوتے ؟ان کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب