کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 156

اتنی اتنی مسافت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔ عصر حاضر کے بازار کی رونق ایسی ہی عورتوں سے بحال ہے۔ نعوذباللہ من ذلک اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے: [فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ ] یعنی:پس نرم لہجہ میں بات مت کرو پس طمع بٹھا لے گا وہ شخص جس کے دل میں مرض ہے۔ یہاں اللہ تبارک تعالیٰ امہات المؤمنین جو کہ پاک اور پاکیزہ ہیں ، کو حکم دے رہا ہےکہ وہ اجنبی مردوں سے نرم لہجہ میں گفتگو نہ کریں جبکہ عصر حاضر کے بازار میں بے پردہ نکلنے والی عورتوں کا شیوہ ہی یہی ہےکہ وہ دوکانداروں سے بڑے ہی نرم وملائم لہجے میں گفتگوکرتی ہیں تا کہ اشیاء کم قیمت میں خریدسکیں ۔ ایک عالم دین خواتین کو خطاب کر رہے تھے ، خطاب میں فرمانے لگے جس طرح تم بازار میں دوکانداروں سے نرم و ملائم لہجہ میں گفتگو کرتی ہو اگر اسی لہجہ میں گھر میں اپنے خاوند سے گفتگو کر لیا کرو تو کا فی حد تک گھر کا ماحول خوشگوار ہوجائے ۔ گانا بجانا،مزمارو موسیقی یا شرکیہ قوالی ، نعتیںو نظمیں عصر حاضر کے بازار کی ایک خرابی یہ بھی ہے ،تقریباً ہر دوکان سے فحش و بے ہودہ مکالموں پر مبنی گانوں کی آواز آرہی ہوتی ہےیا شرکیہ اور بد عقیدگی پر مبنی نعتوں و نظموں کی آواز ۔دونوں ہی آوازیں معاشرے کے بگاڑ کا اولین سبب ہیں ۔ یہی موسیقی ہے جو دل میں اس طرح نفاق اُگاتی ہے جس طرح پانی فصل اُگاتا ہے، اسی موسیقی کی وجہ سے روز محشرموسیقی سننے والوں کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا ۔اور شرکیہ قوالی و نعتیں و نظمیں عقیدہ کے بگاڑ کا باعث ہیں ۔ فحاشی کے اڈے اور عاملوں (جادوگروں ) کے آستانے : ہمارے ملک میں ایسے بازاروں کا وجود بھی ہے جہاں فحاشی کے اڈے اور جادوگروں کے آستانے موجود ہیں حالانکہ شرعاً یہ ایسے جرائم ہیں جن پر کوڑوں ، رجم اور قتل کی سزائیں مقرر ہیں اور احادیث میں ایسی کمائی سے قطعی طور پر منع کیا گیا ہے اور اسے حرام قرار دیا گیا ہے ۔ صحیح مسلم میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :

  • فونٹ سائز:

    ب ب