کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 16

نصیب ہوسکتی ہیں جب وہ ایسی تہذیب اور ثقافت سے وابستہ ہو جو اسے مطلوبہ ضروریات مہیا کرسکے اور اسے لاحق ہونے والے نقصان سے بچا سکے، تو یہ سب اسلامی ثقافت کو اپنائے بغیر ممکن نہیں ۔ اسلامی ثقافت میں دیگر ثقافتوں کے مقابلے میں جو امتیازات اور خصوصیات پائی جاتی ہیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں : اول : اسلامی ثقافت ربانی ثقافت ہے ۔ دنیا میں دیگر جتنی بھی ثقافتیں ہیں وہ انسانی ذہن کی تراشیدہ ہیں۔ اسلامی ثقافت کے اصول قرآن وسنت واجماع امت سے لئے گئے ہیں جن میں سراسر فلاح ہی فلاح ہے ۔ اس میں توحید باری جل وعلا کی جانب دعوت بھی دی گئی ہے ۔ اور مکارم اخلاق ، حقد اروں کو حق دینے ، ظلم کو ختم کرنے ، صلہ رحمی ، اور ہر قسم کی بھلائی کے پھیلانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے ۔ اسلامی ثقافت انسان کو اللہ کی عبودیت کا رنگ چڑھا دیتی ہے {صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۡ وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ ١٣٨؁} [البقرة: 138] ترجمہ: (نیز ان سے کہہ دو کہ : ہم نے) اللہ کا رنگ (قبول کیا) اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے۔ اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا خوف ہی وہ بنیادی چیز ہے جو انسان کو ظلم اور کسی کی حق تلفی سے روکتی ہے جب اللہ کے خوف سے دل عاری ہوجائیں تو پھر انسان ہی حیوان بن جاتاہے اور ایسے اعمال کا مرتکب ہوتاہے جسے عقول سلیمہ ناپسند کرتی ہیں ۔ دوم : اسلامی ثقافت انسانی فطرت سے مطابقت رکھتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ جس نے انسان کو پید افرمایاہے وہٰ انسانی طبیعت اور فطرت سے بخوبی واقف ہے ۔ اور جانتاہے کہ کونسی چیز انسانی طبیعت کے موافق ہے اور کون سی نہیں ، انسان کو اگر آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس میں موجود حیوانیت اس پر غالب آجاتی ہے اور ایسے معاملات بجا لاتاہے جومعاشرے میں موجود دیگر افراد کی حق تلفی اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی اسی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے اسے ایک بنا بنایا نظام عطافرمایا تاکہ اس کیلئے معاشرے میں اعتدال اور توازن قائم رکھنا ممکن ہوسکے ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب