کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 161

کی چیزیں کمی سے نہ دو ایک اور مقام پر فرمایا: [وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ۝۱ۙالَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ۝۲ۙ وَاِذَا كَالُوْہُمْ اَوْ وَّزَنُوْہُمْ يُخْسِرُوْنَ۝۳ۭ ] [المطففین1تا3] یعنی ہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ا نہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ ’’جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کردیا جاتا ہے۔ ‘‘ قارئین کرام ! یہ اور ان جیسی کئی اور بیوع، جن میں دھوکہ ہے ، فریب ہے ، بے ایمانی ہے، حرام کا ارتکاب ہے۔ عصر حاضر کے بازار میں ،ان کا چلن عام ہے اور بازار بھی وہ جہاں بے پردگی ہے ، فحاشی و بے ہودگی ہے۔ گانے نغمے اور موسیقی ہے، دین و شریعت کے ساتھ استہزاء کو فروغ دینے والے مقامات ہیں، ایسی اشیاء کی خرید و فروخت ہے جو یہود و نصاریٰ ، ہندو اور دیگر کفار کے تہواروں اور ان کے باطل عقائد و نظریات کے تعارف و پہچان اور شہرت کا باعث ہیں ۔ اگر ہم اپنی دولت ، عزت ، شہرت ، تجارت، دنیا و آخرت پُر امن اور باحفاظت بنانا چاہتے ہیں تو اپنے بازاروں کو شرعی خطوط کے تحت چلانا ہوگا اور قرونِ اولیٰ کے بازاروں کا سانظام ، اپنے بازاروں میں رائج کرنا ہوگا۔ ورنہ ہر قسم کے نقصان ، خسارہ اور گھاٹہ سے بچنادشوار ہوگا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب