کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 164

ان کی کم سنی کی وجہ سے ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو عدت تین مہینے ہے ۔ یہاں پر مطلقہ عورتوں کی عدت کا ذکر ہو رہا ہے اور طلاق نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے ۔ معلوم ہوا کہ قرآن ہی سے نابالغ لڑکی کا نکاح ثابت ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ اس آیت کاشانِ نزول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’جب سورۃ البقرۃ میں عورتوں کی عدت کے بارے میں آیات نازل ہوئیں (آیت نمبر:234) تو مدینہ کے بعض لوگوں نے کہا کہ عورتوں کی عدت کے سلسلے میں کچھ ایسی بھی صورتیں ہیں کہ جن کا تذکرہ قرآن نے نہیں کیا ، جیسے چھوٹی عمر کی لڑکیاں، بڑی عمر کی عورتیں جنہیں حیض آنا بند ہو گیا ہو اور حاملہ خواتین۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ امام شوکانی لکھتے ہیں: ’’اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن میں جن عورتوں کے متعلق بیان ہوا ہے کہ’’جن کو حیض آنا شروع نہیں ہوا ہے‘‘ سے مراد وہ کم سن لڑکی ہے جو ابھی نابالغ ہو۔‘‘ علامہ ابن بطال مالکی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’قال المھلب: اجمع العلماء علی انہ یجوز للاب تزویج ابنته الصغیرۃ التی لا یوطا‘‘ ’’علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ والد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی کم سن (چھوٹی) لڑکی کا نکاح کرے جو ابھی ہم بستری کے قابل بھی نہ ہو۔‘‘ قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت کے متعلق علماء کی تفسیر اس طرح ہے: امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ’’الجامع الصحیح‘‘میں باب قائم کیا ہے: باب انکاح الرجل ولدہ الصغار لقولہ تعالیٰ: " وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ " فجعل عدتھا ثلاثۃ اشھر قبل البلوغ"

  • فونٹ سائز:

    ب ب