کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 166

جبکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ طلاق اسی ہی کو دی جاتی ہے جس کا نکاح ہو چکا ہو کیونکہ طلاق بعد کا عمل ہے جبکہ نکاح اس سے پہلے کا۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "فان کانت المطلقۃ لا تحیض لصغر او کبر او خلقۃ ولم تکن حاملا، و کان و قد وطئھا فعدتھا ثلاثۃ اشھر من حین بلوغ الطلاق الیھا او الی اھلھا ان کانت صغیرۃ لقول اللہ تعالیٰ:[ وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ] ’’اگر مطلقہ عورت کو اس کی کم سنی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو یا اس کی بڑی عمر کی وجہ سے یا کسی پیدائشی نقص کی وجہ سے اور وہ حاملہ بھی نہ ہو اور اس کا خاوند اس کے ساتھ ہمبستر بھی ہوا ہے تو اس صورت میں اس کی عدت تین ماہ ہے جب سے اس کو طلاق دی گئی یا اس کے ورثاء تک (اس کی) طلاق پہنچی پھر چاہے وہ نابالغ لڑکی ہی کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ ] علامہ سرخسی حنفی رحمہ اللہ (وفات: 483ھ) لکھتے ہیں: "بین اللہ تعالیٰ عدۃ الصغیرۃ و سبب العدۃ شرعا ھو النکاح و ذالک دلیل تصور نکاح الصغیرۃ" ’’اللہ تعالیٰ نے چھوٹی لڑکی کی عدت کو واضح طور بیان فرمایا ہے اور عدت کا سبب شرعی نکاح ہوتا ہے (کیونکہ نکاح کے بعد ہی عدت ہوا کرتی ہے جیسے خاوند فوت ہو جائے یا طلاق دے دے) اور یہ بات چھوٹی لڑکی کے نکاح کی دلیل ہے‘‘۔ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ (وفات: 620ھ) لکھتے ہیں: "قد د ل علی جواز تزویج الصغیرۃ قول اللّٰہ تعالیٰ [وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ

  • فونٹ سائز:

    ب ب