کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 170

الا ان یکون اطلق استصحابا لحالھن " ’’اس میں یتیم لڑکی کے بالغ ہونے سے پہلے نکاح کا جواز ہے کیونکہ بلوغت کے بعد اسے یتیم نہیں کہا جاتا مگر ان کی پہلی حالت کے پیش ِنظر بالغ ہوجانے کے بعد بھی یتیم کا اطلاق ہوسکتا ہے‘‘ ۔ تیسری دلیل : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ][النور: 32] ترجمہ:’’تم میں سے جو مرد وعورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنی نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی، اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے امیر بنا دے گا اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔‘‘ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: "ھذا امر بالتزویج و قد ذھب طائفۃ من العلماء الی وجوبہ علی کل من قدر علیہ واحتجوا بظاھر قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر و احصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء۔ (بخاری:5066، مسلم:1400)۔۔۔۔۔ الایامی: جمع اَیّم و یقال ذالک للمرأۃ التی لا زوج لھا ولرجل الذی لا زوجۃ لہ، و سواء کان قد تزوج ثم فارق او لم یتزوج و احد منھما، حکاہ الجوھری عن اھل اللغۃ " ’’اس آیت میں نکاح کا حکم ہے ۔ علماء کی ایک جماعت اس بات کی طرف گئی ہے کہ جس کے پاس استطاعت ہے اس پر نکاح واجب ہے ، انہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے : اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جس کو طاقت ہے وہ شادی کرے کیونکہ شادی کرنے سے نظریں جھکی رہتی ہیں اور شرم گاہ محفوظ رہتی ہے اور جس کو نکاح کی طاقت نہیں ہے وہ روزے رکھے اس سے اس کی نفسانی خواہشات کم ہو جائیں گی ۔۔۔۔ الایامی :اَیّـمکی جمع ہے ۔اَیّـم اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کا خاوند نہ ہو اور اس مرد کو کہا جاتا ہے جس کی بیوی نہ ہو ، اب چاہے شادی کے بعد ایک دوسرے سے الگ ہو گئے ہوں یا شادی ہی نہ کی ہو ۔ علامہ جوہری نے انہیں اہل لغت کے حوالہ سے بیان کیا ہے‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب