کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 173

علامہ ابن الھمام حنفی رحمہ اللہ (وفات: 861ھ) لکھتے ہیں: "وتزویج ابی بکر لعائشۃ رضی اللہ عنہا و ھی بنت ست نص قریب من المتواتر" ترجمہ:’’سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اپنی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح چھ سال کی عمر میں کروانا ایک نص ہے ، جومتواتر کے قریب ہے۔ ‘‘ ابن بطال مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "اجمع العلماء علی انہ یجوز للآباء تزویج الصغار من بناتھم ، وان کن فی المھد" ’’علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ والدین کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی چھوٹی کم سن لڑکیوں کا نکاح کروا سکتے ہیں اگرچہ وہ جھولے میں ہوں۔‘‘ علامہ ابن بطال آگے لکھتے ہیں: مگر خاوندوں کے لیے اپنی بیویوں سے اس وقت تک ہم بستر ہونا جائز نہیں ہے جب تک وہ اس لائق ہو جائیں اور مردوں کا بوجھ برداشت کر سکیں اور اس حوالہ سے عورتوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں یعنی ان کی بناوٹ اور طاقت کے لحاظ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو وہ اس وقت چھ سال کی تھیں اور جب صحبت اختیار کی تو وہ نو سال کی تھیں۔ علامہ ابن مالکی (وفات: 827 ھ) زیر بحث حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: "الحدیث اصل فی تزویج الاب ابنتہ وان لم تطق المسیس و لم یختلف فيه" ’’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ والد اپنی بیٹی کا اس عمر میں نکاح کرا سکتا ہے جب وہ ہمبستر ہونے کےبھی لائق نہ ہو اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دین ہے اور اس پر طعن کرنا خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر طعن ہے ۔( نعوذ باللہ من ذالک)

  • فونٹ سائز:

    ب ب