کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 175

موجود رہتے ہیں ، تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت کے دن گذارو ، وہ نابین ہے اور تم وہاں اپنے کپڑے بھی اتار سکتی ہو( کیونکہ وہ نابین ہے) اور جب عدت کے دن ختم ہوں تو مجھے بتانا۔ فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں کے عدت ختم ہونے پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور کہا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم کی طرف سے نکاح کا پیغام آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک ابو جہم کا تعلق ہے تو وہ اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا ( یعنی بیویوں کی مار پٹائی زیادہ کرتا ہے) اور معاویہ مفلس ہے۔ تم اسامہ بن زید سے شادی کرو ، میں نے اس بات کو ناپسند کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کہا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔ پھر میں نے ان سے نکاح کر لیا اور اللہ نے اس قدر خیر و برکت کی کہ دوسری عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب فاطمہ بنت قیس کا نکاح اسامہ بن زید سے کرایا تو وہ اس وقت 15 سال کے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں انہیں اولاد بھی ہوئی ۔ جس طرح حافظ ابو الفضل عراقی نے شرح الاحکام میں یقین سے کہا ہے اور حافظ ابن حجر نے بھی اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے ، اس وقت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ 19 سال کے تھے۔ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ(وفات: 463ھ) لکھتے ہیں: ضحاک بن قیس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے 6 سال قبل پیدا ہوا ئے، وہ فاطمہ بنت قیس کے بھائی تھے اور بہن بھائی سے عمر میں دس سال بڑی تھیں۔  اس حساب سے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ضحاک بن قیس کی عمر 6 سال تھی تو پھر فاطمہ بنت قیس کی عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت 16 سال ہی ہوگی اور اسامہ بن زید کی عمر 19 سال۔ اس لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس کی شادی اسامہ بن زید سے کرائی تھی

  • فونٹ سائز:

    ب ب