کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 176

تو فاطمہ کی عمر 12 سال تھی۔ تو پھر آپ خود اندازہ لگائیں کہ اپنے پہلے خاوند سے شادی کے وقت فاطمہ کی کیا عمر ہوگی؟؟!! یقیناً وہ اس وقت 12 سال سے بھی چھوٹی تھیں۔ معلوم ہوا کہ 18 سال سے کم عمر میں نکاح صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص نہ تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف کا عمل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف کا عمل اس امر کی تائید کرتا ہے کہ 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی ہو سکتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ (وفات:204ھ) فرماتے ہیں: "زوج غیر واحد من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ابنته صغیرة" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کرام نے اپنی چھوٹی بیٹیوں کی شادیاں کروائیں۔ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ(زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کرنے گئے ۔ قدامہ بن مظعون بیمار تھے اور ان کے پاس ہی زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری سنائی گئی۔ قدامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: زبیر! اس لڑکی کی مجھ سے شادی کرادو۔ سیدنازبیر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم چھوٹی لڑکی کا کیا کروگے؟ جبکہ تم بیمار بھی ہو! قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، اگر زندہ رہا تو زبیر کی بیٹی میری بیوی ہوگی اور اگر فوت ہو گیا تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ وہ میری وارث بنے۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے، قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ سے اپنی بیٹی کی شادی کرا دی۔ علامہ ابن الھمام حنفی کہتے ہیں: ’’قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے اس دن شادی کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب