کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 179
5۔ امام مروزی (وفات: 294ھ): اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ والد کے لیے اپنے چھوٹے لڑکے اور چھوٹی لڑکی کا نکاح کرا نا جائز ہے ۔امام مروزی مزید لکھتے ہیں: اس نکاح کو عمر، علی، ابن عمر، زبیر، قدامۃ بن مظعون اور عمار رضی اللہ عنہم نے جائز قرار دیا ہے۔ 6۔ ابن المنذر (وفات: 318ھ): اس بات پر اجماع ہے کہ اگر والد اپنی چھوٹی کنواری لڑکی کا نکاح"کُفؤ"سے کرے تو ایسا نکاح جائز ہے۔  7۔ المھلب مالکی (وفات: 435ھ): علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ والد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی چھوٹی لڑکی کا نکاح کرے جو ابھی ہمبستری کے لائق بھی نہ ہو، دلیل قرآن کی آیت ہے۔ " وَّاڿ لَمْ یَحِضْنَ ۭ" 8۔ ابن بطال مالکی (وفات: 449ھ): علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ والد اپنی چھوٹی بچیوں کا نکاح کرا سکتا ہے اگرچہ وہ ابھی جھولے میں ہوں۔  9۔ ابو ولید باجی (وفات: 494ھ): جہاں تک چھوٹی کم سن لڑکی کا تعلق ہے تو اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ والد اس کو نکاح کے لیے مجبور بھی کر سکتا ہے اور اس بچی کا نکاح کرانا بھی اس کے لیے جائز ہے۔