کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 180

10۔ ابن عبدالبر (وفات: 463ھ): علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ والد اپنی چھوٹی لڑکی کا نکاح اس سے مشورہ کیے بغیر کرا سکتا ہے جیسے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نےسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کرادی۔  11۔ امام بغوی (وفات: 516ھ): علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ والد اور دادا کے لیے جائز ہے کہ وہ چھوٹی لڑکی کی شادی کرا دیں ، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ 12۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ (وفات: 544ھ): اس مسئلہ میں علماء کے درمیان کوئی بھی اختلاف نہیں ہے کہ والد اپنی چھوٹی لڑکی کا نکاح کرا سکتا ہے جو ابھی ہمبستری کے لائق بھی نہ ہو۔ 13۔ ابن ھبیرہ (وفات: 560ھ): اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ والد اپنی چھوٹی لڑکی کے نکاح کا اختیار رکھتا ہے۔ 14۔ ابن رشد (وفات: 595ھ): اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ والد اپنی نابالغ لڑکی پر نکاح کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔ 15۔ الموفق ابن قدامہ (وفات: 620ھ): اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ والد اپنی چھوٹی کنواری لڑکی کے نکاح کا اختیار رکھتا ہے کیونکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرایا تھا

  • فونٹ سائز:

    ب ب