کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 184

ہوگئے ہیں ، یہاں تک کہ بلوغت کے آثار بھی ظاہر ہو چکے ہیں ، جس طرح مرد کا محتلم ہونا اور عورت کو حیض آنا ، غیر ضروری بالوں کا اگنا لیکن ان کی عمریں ابھی 18 سال نہیں ہیں اس لیے ان کی شادی نہیں کرائی جا سکتی کیونکہ یہ ملک کا قانون ہے۔ ایسی صورت میں وہ بچوں کو تباہی کی طرف جاتے دیکھتا رہتا ہے اور شادی نہیں کرا سکتا۔ 2۔ ایک آدمی بیمار ہے اور زیادہ دن زندہ رہنے کی امید بھی نظر نہیں آتی۔ اس کی 15سال کی لڑکی ہے لیکن کوئی بھی وارث نہیں ہے جو بچی کی دیکھ بھال اور پرورش کر سکے اور اگر کوئی وارث ہے بھی صحیح تو اس سے کوئی خیر کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اب یہ والد کسی دیندار اور شریف آدمی سے اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتا ہے تاکہ سکون اور اطمینان سے دنیا سے رخصت ہو سکے لیکن ملک کے قانون کے پیش نظر وہ ایسا نہیں کر سکتا ۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ والد کے فوت ہونے کے بعد بچی لاوارث ہو جائے گی یا ظالموں کا شکار ہو کر در در کی ٹھوکریں کھاتی پھرے گی۔ 3۔ ایک بیوہ عورت ہے اور اس کی ایک بیٹی ہے جو اس کی وارث بھی ہے، عورت کے لیے اپنا پیٹ پالنا اور عزت و ناموس کی حفاظت کرنا بڑا مسئلہ ہے اور دوسر ی طرف لڑکی بھی 16 سال کی ہے اور بالغ بھی، لیکن ملک کے قانون کے مطابق وہ 18 سال سے پہلے شادی نہیں کرا سکتی۔ ایسی صورت میں قوی امکان ہے کہ وہ عورت اور اس کی بیٹی کسی بدمعاش کے ستم کا نشانہ بن جائیں۔ 4۔ یہ قدرتی اور فطری بات ہے کہ بلوغت کے بعد مرد و عورت کی جنسی خواہشات بڑھ جاتی ہیں ، ایسی صورت میں ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے 18 سال سے پہلے شادی کر دینا بہتر عمل ہے یا بےحیائی کو برداشت کرنا؟ خصوصی طور پر دور حاضر میں، جو میڈیا کا دور ہے ۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے بے حیائی پھیلانے والے پروگرامز نے تو قوم کے اخلاق کا جنازہ نکال دیا ہے ، فحش پروگرامز اور برہنہ تصاویر سے جذبات کو ابھارا جا تا ہے ۔ کیا ایسی صورت میں یہ بہتر نہیں ہے کہ والد لڑکی کے بالغ ہوتے ہی اس کی شادی کا سوچے۔ مذکورہ بالا صورتیں محض فرضی نہیں ہیں بلکہ حقائق ہیں جن سے شاید ہم بے خبر ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جدید تہذیب 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کی تو مخالف ہے لیکن بلوغت سے بھی پہلے جنسی تعلیمات کی حمایتی!!!

  • فونٹ سائز:

    ب ب