کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 186

لیکن اس کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ بچپن کے نکاح کو حرام اور ناجائز قرار دے دیا جائے۔ جو لوگ شریعت کے جائز امور کو ناجائز کہتے ہیں وہ شریعت سازی کے مرتکب ہیں ، اللہ اور اس کے پیارے پیغمبر کی سنت کے مخالف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ] ’’جو لوگ حکم رسول کی نافرمانی کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب (نہ) پہنچے‘‘[النور: 63] [ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذَالِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْیُٗ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلَی اَشَدِّ الْعَذَابِ وَ مَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ][البقرۃ: 85] ’’کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ تم میں سے جو بھی ایسا کرے اس کی سزا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور قیامت کے دن سخت عذابوں کی مار اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں‘‘ [ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا] [الاحزاب:36] ’’کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا (یاد رکھو) اللہ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہی میں پڑے گا‘‘ [ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ] ’’پھر ہم نے آپ کو دین کی راہ پر قائم کر دیا سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں‘‘[الجاثیۃ: 18] [ وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ۭ قُلْ اِنَّ ھُدَى اللّٰهِ ھُوَ الْهُدٰى ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ] ’’آپ سے یہود و نصاریٰ ہر گز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب