کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 192

صلہ رحمی اور رشتہ داری نبھانا ، دور دراز کے رشتہ داروں کے حالات سے باخبر رہنا آسان ہوگیا ہے۔ انسان نے کمپیوٹرٹیکنالوجی کو ایجاد کر کے اپنے بیشتر مسائل کوحل کر لیا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں کمپیوٹر اہم جز بن گیا ہے۔اکیسویں صدی کی زندگی میں کمپیوٹر بہت اہمیت رکھتاہے۔ حساب کتاب، ڈیزائننگ، اردو اور انگلش ٹائپنگ، موبائل، ویب اور دیگرسوفٹ ویئرز نے متعدد معاملات کو آسان بنا دیا ہے، سوفٹ ویئرز کے آنے سے پہلے ان معاملات کوحل کرنے میں بہت مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی بدولت گھر بیٹھے کاروباری لین دین بھی آسان ہو گئی ہے۔ یونیورسٹیز میں ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن تعلیم کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، اب جو لوگ کاروبار کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ آن لائن تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ دینی تعلیم کے میدان میں بھی ٹیکنالوجی نے بہت سہولیات فراہم کی ہیں، بہت سی کتب ڈیجیٹل موڈ میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جن تک رسائی پہلے عام طالب علم کے لئے نہایت مشکل تھی، بہت سی قیمتی کتب کا ذخیرہ ، احادیث کی تخریج،اور اہم علماء کے آڈیو ، ویڈیو دروس بآسانی انٹرنیٹ سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ (3) جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات یہ بات ایک حقیقت ہے کہ آج اقوام عالم میں سب سے بڑا اور مؤثرہتھیار میڈیا ہےجس کی ہر گھر تک رسائی جدید ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے۔میڈیا جس میں ٹیلی ویژن کے چینلز ، اخبارات، ویب سائٹس شامل ہیں ، ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جس سے پوری قوم کے افکار ونظریات متزلزل کئے جاسکتے ہیں، ان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ اس بات سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ میڈیا کا ایک بہت بڑا حصہ ان ہاتھوں میں ہے جو اسلامی حدود و قیود ، آداب ، ضوابط سے ناواقف ہیں ، بلکہ اسلام کےنام سے خار کھاتے ہیں اور ہمہ وقت اسلامی اقدار اور اخلاق کے پرخچہ اڑانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں، اور اپنی ان کوششوں کی بدصورتی کو ’’روشن خیالی‘‘ اور ’’آزادی اظہار رائے‘‘ جیسے خوبصورت ناموں کے پیچھے چھپانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد جن میں لڑکیوں کی اکثریت ہے کا زیادہ تر وقت ٹیلی

  • فونٹ سائز:

    ب ب