کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 195

مدعی نبوت جیسے یونس کذاب جس نے ہالینڈ میں نبوت کا جھوٹا دعوی کیا ہے کی ویب سائٹ موجود ہے، اسی طرح ملعون گوہر شاہی کے خلیفہ اور ماننے والوں کی ویب سائٹس بھی موجود ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ شیطانی مذہب کے پیروکار جو کہ تمام ادیان کے انکاری ہیں اور کفروالحاد کے داعی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت اور عفت وحیا ، اور محرمات کے ساتھ نکاح نہ کرنے کی پابندی کو لغو قرار دیتے ہیں ، برہنہ رہنے ، ہر قسم کی برائی کرنے اور شیطان کی عبادت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں ، ایسے شیطان کے پجاریوں کی ویب سائٹس بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ مسلم نوجوان جو عموما ویسے بھی بدقسمتی سے اسلامی عقائد سے مکمل آگاہ نہیں اور دین سے بیزار ہےوہ ان ویب سائٹ کا براہ راست نشانہ ہے، کتنے ہی مسلم نوجوان اس قسم کی ویب سائٹس کا وزٹ کرکے اور ان کا لٹریچر پڑھ کر گمراہ ہوچکے ہیں، واللّٰہ المستعان۔ اسی طرح یہ معاملہ بھی نظر میں آتا ہے کہ بہت سے ایسے افراد دین اسلام کے احکامات ، نازک اور اہم مسائل کے بارے میں بحث ومباحثہ کرتے ہیں جو دین کا صحیح علم نہیں رکھتے ، یہ انٹرنیٹ پر مفتی کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں اور بغیر علم کے فتوے دیتے چلے جاتے ہیں ، امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ایسے نوجوانوں کی کتنی کثرت ہوچکی ہے جو بالکل جاہل مطلق ہونے کے باوجود مسلمانوں کے اہم معاملات پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں ، اس سے میرے لئے یہ بات مزید پختہ ہوگئی ہے کہ اب وہ زمانہ ہے جس میں قیامت کی نشانیاں واضح ہونا شروع ہوچکی ہیں جن میں سے ایک نشانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہے کہ : ایسا زمانہ آئے گا جس میں’’ رویبضہ ‘‘ بات کیا کریں گے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ رویبضہ کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جاہل شخص جو مسلمانوں کے اہم معاملات پر (علم نہ ہونے کے باجود) بات کرے۔ (2) جھوٹ بیانی اور فحش گوئی سوشل ویب سائٹ پر ہزاروں لاکھوں اکاؤنٹس ایسے ہیں جو Fake ہیں ، اور صرف نوجوان لڑکوں یا لڑکیوں کو ورغلانے ، دھوکہ دینے کے لئے بنائے گئے ہیں ، اسی طرح فیس بک وغیرہ پر بات چیت کرتے اور کمنٹس دیتے وقت ایسی بدکلامی اور فحش گوئی کی جاتی ہے کہ کسی سچے مسلمان کی حیاء

  • فونٹ سائز:

    ب ب