کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 205

انٹرنیٹ کے فوائد: انٹرنیٹ کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے اگرچہ ہم مسلمان اس میدان میں بہت پیچھے ہیں جب کہ کسی زمانے میں ہم لوگ سائنس کے میدان میںیورپ والوں سے آگے تھے ۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہم ایمیل،ای کامرس،ای بزنس،آن لائن تعلیم،فاصلاتی تعلیم،آن لائن ایگزامز، یونیورسٹی، کمپنی کی معلومات ، اشیاء،اخبار و رسائل و جرائد ،فلاحی و زرعی تنظیمیں ،سیاسی پارٹیوں کے بارہ میں معلومات ،بینکنگ اور تمام طرح کے بلوں کی ادائیگی ، طبی و سائنسی معلومات ،شریعت کے احکام و مسائل اور قرآن و حدیث کو سمعی و بصری شکل میں حاصل کر سکتے ہیں۔ حال ہی میں مشرق وسطی میں تیونس ،مصر ،لیبیا میں حکومتوں کے خلاف جو تحریکیں چلیںاس میں انٹرنیٹ کا اہم کردار رہا ہے۔اس سے سرحدی فاصلے ختم ہو گئے اور بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ذریعہ پوری دنیا ایک انسان کی مٹھی میں آگئی ہے۔اگر انٹر نیٹ کا استعمال بہتر مقاصد اور تعمیری کاموں کے لیے ،معلومات میں اضافے کے لیے ، تعلیم و تعلم کے میدان میں ہو تو یہ باہمی تعاون کی بہترین صورت ہے کیونکہ ایسے کاموں کا قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے [وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ](المائدۃ:2) ’’ نیکی اور پر ہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو۔‘‘ انٹرنیٹ کے نقصانات : انٹرنیٹ کی خاص برائیوں میں فحش گانے ، فلمیں،بے حیائی کے مناظر ،اشتہارات کے نام پر بے پر دگی عریانیت ،بت پرستانہ و مشرکانہ رسوم ،معاشی دھاندلیاں ،رقومات کی دھوکے سے منتقلی، نجی معلومات کی فریب دہی، جلد دولت مند بننے کے چکر میں دھوکہ دہی ، فریب دہی کے نئے نئے طریقے، دھمکی آمیز پیغامات کی ترسیل اور فحش پیغامات و فحش مواد دوسروں کوبھیجناوغیرہ ہے ۔یہ کانوں اور آنکھوں دونوں کی لذت کا سامان مہیا کرتا ہے اس لیے لوگ اس کے دلدادہ ہیں۔مگرایجاد کو شرعی حدود کا پابند ہونا چاہیے کیونکہ کان آنکھ دل سب کی بازپرس ہوگی ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: [اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْہُ مَسْــــُٔــوْلًا][الاسراء:36]

  • فونٹ سائز:

    ب ب