کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 206

’’ اور کان آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک کی پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔‘‘ اوراسی بے حیائی کی وجہ سے نمازیں بے اثر ہوتی جا رہی ہیں۔جب کہ نماز تو بے حیائی سے روکتی ہے جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے ۔ [ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ][العنکبوت: 45] ’’یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ۔‘‘ اس ایجاد کا منفی پہلو یہ ہے اس کے ذریعے اسلام مخالف قوتیں ہماری تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ تہذیب و ثقافت کی شکست پوری قوم کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ انٹرنیٹ کوبد قسمتی سے ہم لوگ بنا کسی روک ٹوک کے اپناتے جا رہے ہیں جس کی سخت وعید ہے جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں۔ [وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَہْوَالْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ۝۰ۤۖ وَّيَتَّخِذَہَا ہُزُوًا۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ][لقمان:6] ’’اور کوئی انسان ایسا بھی ہے جو اللہ تعالی سے غافل کرنے والی باتیں خریدتا ہے تاکہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بوجھے (دوسروں کو) گمراہ کرے اور اس راہ کی ہنسی اڑائے ،ایسے ہی لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے ۔‘‘ آج زیادہ تر انٹرنیٹ کا استعمال فحش و بے حیائی و اخلاقی بگاڑ کی طرف دعوت، مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور غلط معلومات کو پھیلانے میں ہو رہا ہے۔اگر بے حیائی و فحش فلموں اور ویڈیوز کی بات کی جائے تو اس کو دیکھنا ،سننا اور پسند کرنا بھی حرام ہے ۔قرآن کریم میں بے حیائی کی باتوں کو پھیلانے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خبر سنائی گئی ہے ۔ارشادِ ربانی ہے : [اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَۃُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۰ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ] [النور:19] ’’جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے ،ان کو دنیا اور آخرت میں

  • فونٹ سائز:

    ب ب