کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 207

دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور اللہ تعالی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔‘‘ mانٹرنیٹ کے غلط استعمال سے لڑکے لڑکیوں کی اخلاقی قدروں کے ساتھ ساتھ ذہنی و جسمانی صلاحیتوں پر کاری ضرب لگتی ہے چنانچہ اس سلسلے میں والدین کو ہمیشہ بیدار رہنا چاہیے کہ بیٹا یا بیٹی انٹرنیٹ پر کیاکیا دیکھ رہے ہیں ۔ایک عجیب بات ہے کہ کمپیوٹر گھروں میں عموما ایک کونے اور آڑ میں رکھا ہوتا ہے ۔ رات رات بھر کمپیوٹرچلتا رہتا ہے اور والدین سمجھتے ہیں کہ پڑھائی ہو رہی ہے جب کہ عموما پڑھائی کے علاوہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے اور نہ والدین کو توفیق ہوتی ہے کہ وقتا فوقتا اس کو چیک کرتے رہیں۔ یامخصوص فحش و غیر اخلاقی ویب سائٹوں کو بند کرا دیں ۔بہتر ہوگاکہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو اس’ معلوماتی ہائی وے‘ پر تنہا نہ چھوڑیں۔جب معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو ہوش آتا ہے۔ اس وقت جب کہ انٹرنیٹ ایک اہم و بنیادی ضرورت بن چکا ہے ہم کسی کو بھی اس کے استعمال سے روک نہیں سکتے اور نہ ہی یہ ممکن ہے ۔کیونکہ ہمارے پاس اس کا کوئی دوسرا بدل نہیں ہے۔معاندین اسلام نے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اسلامی تہذیب و اقدار کو تباہ و برباد کرنے کاعزم کر رکھا ہے۔ ہمارے علمائے کرام ،مذہبی و ملی تنظیموں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان ذرائع کو زیادہ سے زیادہ خیر اور نیکی کے کاموںمیں استعمال کرنے کے لیے رہنمائی کریں ۔ تعلیم، تجارت اور سیاست ہر جگہ اس سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ اربابِ حل و عقد کی مسلسل کوششوں سے کمپیوٹر خواندگی میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ نئی نسل اس کرشماتی ٹیکنالوجی کو خوب استعمال کررہی ہے۔ انٹرنیٹ کے فوائد اور اس کی فراہم کردہ سہولتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک مفید ایجاد ہے لیکن غلط استعمال سے ایک مفید ذریعۂ معلومات خرابیوں کا سرچشمہ بھی بنتا جارہا ہے۔ اس سے گوناگوں مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اس کے برے اثرات سے بچنے کی تدابیر نہیں کی گئیں تو انسانیت کو زبردست خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلنے والی برائیوں کی فہرست طویل ہے۔ ان میں پورنوگرافی (Pornography) سرفہرست ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتی

  • فونٹ سائز:

    ب ب