کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 214

لوگوں کو دئیے جارہے ہیں ، یہ عمل مفید بھی ہے۔ لیکن اس شخص کے لیے جو اسے تخریبی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے یا ان افراد کے لیے جن کے بہکنے کی یا کسی تخریبی گروہ کا حصہ بن جانے کی یا دیگر مخرب اخلاق سرگرمیوں میں مشغول ہونے یا فتنوں میں مبتلا نہ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی ، خصوصا نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ؛ تو ایسے افراد کے لیے شرعاً اس کا رکن بننے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ شخص جو حقائقِ وقت سے آگاہ ہے ، اور اس صنعتی دور کی پیدا کردہ تعیشات ، منہ زور خواہشات ، حلال حرام کی تفریق کیے بغیر لذتوں کی طلب ، خاندانی و سماجی رشتوں کے کمزور ہوتے بندھن ، اور وہ فتنے جو ہم سے ہر ایک کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں ان سے بخوبی آگاہ ہے ؛ تو ایسی صورتحال میں وہ کسی فقیہ یا مفتی پر اعتراض نہیں کریگا جو کسی ایسی شے سے منع کر رہے ہیں جس میں جزوی یا کلی طور پر نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شے میں موجود قلیل فائدہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ اب مکمل طور پر جائز ہو گئی ہے کیونکہ کسی بھی شخص کے لیے یہ خدشہ ہمیشہ موجود رہےگا کہ وہ اس شے کے قلیل فائدے سے صرفِ نظر کر کے اس کے کثیر نقصان میں مبتلا ہو جائے خصوصا جبکہ غیر شرعی لذتوں اور فتنوں کی طرف شیطان ہمہ وقت انسان کو بھٹکاتا رہتا ہے۔ اگر کسی شے کے اچھے اور مفید طلب پہلو زیادہ ہیں اور برے اور نقصان دہ پہلو کم ہیں تب ہی ہم مکمل وثوق اور اطمینان کے ساتھ اس چیز کے جائز ہونے کا حکم دے سکتے ہیں۔ وہ شخص جو فیس بک اور اس طرح دیگر ویب سائٹس پر اپنے آپ کو غیر شرعی امور کے ارتکاب سے بچا نہیں سکتا اور اپنے نفس پر قابو نہیں پا سکتا ، تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان ویب سائٹس کا حصہ بنے۔ یہ جواز صرف اسی شخص کے لیے مخصوص ہے جو شرعی رہنمائی کے مطابق انھیں استعمال کرے ، اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اپنی خواہشات کو کنٹرول کر سکے اور جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ ان ویب سائٹس کے استعمال سے اپنی ذات کو نفع پہنچائے گا اور دوسرے اس کی ذات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ فیس بک استعمال کرنے کے سلسلے میں اصلاحی اقدامات: ان سب خوبیوں او ر خامیوں کے ساتھ ساتھ اگر کوئی بھی شخص فیس بک استعمال کرنا چاہے یا کر رہا

  • فونٹ سائز:

    ب ب