کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 216

لہجے کا خیال رکھناضروری ہے۔ 7 اجنبی لوگوں کو دوستی کے پیغام ہرگز نہ بھیجیں۔ 8 ذاتی تشہیر نہ کریں : انسانی مزاج مختلف ہوتے ہیں ، ہر پڑھنے والا ضروری نہیں کہ آپ کی ہر پوسٹ سے لطف اندوز ہوجائے۔ 9 دوسروں کی رائے کا احترام کریں : انٹرنیٹ کی دنیا میں ہر کوئی آزاد ہے ، ہر انسان اپنی الگ رائے رکھتاہے ، اس لیے فیس بک پر اپنی رائے کا اظہار کرنے میں سب ہی آزاد ہیں۔ دوسروں کی کسی بات سے اگر آپ کو اتفاق نہیں تو اس کو بُرا بھلا کہنے کے بجائے آگے چلیں ، اس میں بہتری ہے اور اگراس کی سوچ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے تو اسے احسن طریقے سے سمجھائیں۔ 10 پرائیویسی سیٹنگ بار بار چیک کریں : آپ کے علاوہ قریبی دوستوں ، رشتے دار، جان پہچان کے لوگ دفتر کے ساتھی فیس بک پرایڈ ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ بھی شیئر کرنے میں یہ دھیان رکھیں کہ آپ کی پوسٹ کن لوگوں تک پہنچے گی۔ فیس بک ایک خطر ناک دودھاری تلوار ہے ، اسے احتیاط سے استعمال کرنا ہی عقل مندی کا تقاضا ہے۔ رضائے الٰہی کےلئے اجنبی لوگوں کو (Friend) بنانا جبکہ رشتہ داروں کو (Friend) بناتے ہوئے صلۂ رحمی کی نیت کرنا بھی ضروری ہے۔ غیر مسلموں کو حکمت وبصیرت کے ساتھ اسلام کی دعوت دینا۔ دعوت وتبلیغ اور اصلاح معاشرہ کی نیت سے مستند ومحقق دینی پیغامات ٹائم لائن پہ لگانا۔ سب سے پہلے اپنی اور پھر ساری انسانیت کی اصلاح کی کوشش کرنا۔ کارِخیر میں حصہ ڈالنے اور نیکی کی حوصلہ افزائی کے لیے اچھی پوسٹ لائک اور شیئر کرنا۔ فحش، غیر اخلاقی اور فضول چیزوں سے دُور رہنا۔ نامناسب (comment) گالم گلوچ کے ذریعے لوگوں کی دِل آزاری سے بچنا، نیز بد اخلاقی کے جواب میں بھی ہمیشہ عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرنا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب