کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 225

جسے فون کیا گیا ہے اُس کے لیے بھی مناسب ہے کہ اگر وہ ایسی جگہ موجود ہے جہاں فون کا جواب نہیں دے سکتا تو وہ موبائل کو ساکت(Silent)کر دے پھر بعد میں عذر پیش کرتے ہوئے جواباً رابطہ (Call Back) کرے یا جلدی سے بتا دے کہ وہ ایسی جگہ پرہے جہاں فون کا جواب نہیں دے سکتا، یہ دل کی صفائی کا اچھا طریقہ ہے اور اس سے مسلم معاشرہ بدگمانی کی بیماری سے محفوظ رہتاہے۔ Ring دینے میں شرعی آداب کو ملحوظ رکھناچاہیے : تین بار فون کی گھنٹی بجنے کے باوجود اگر فون نہیں اٹھایا گیا تو سمجھ لینا چاہیے کہ اجازت نہیں ہے اور کال کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کردینا چاہیے ،کتنے لوگ جواب نہ ملنے پر بار بارکال کرتے ہیں بلکہ کچھ لوگ توجواب نہ ملنے پر غصہ ہوجاتے ہیں اور جلدبازی میں نا مناسب الفاظ بھی بول دیتے ہیں۔ اس طرح جسے فون کر رہے ہوں اُس کی طرف سے جواب نہ ملنے پرہمیشہ حسن ظن رکھنا چاہیے۔ فون کرنے کے لیے مناسب وقت کا انتخاب کیاجائے : ہروقت کوئی بھی شخص فون کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں رہتا ، کبھی گھریلو مشغولیات ہوتی ہیں ، کبھی کام کے تقاضے ہوتے ہیں۔ بالخصوص ایسے اشخاص سے بات کرتے وقت مناسب وقت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے جو انتہائی مصروفیت کی زندگی گذار رہے ہو اور خیال رکھا جائے کہ جس وقت فون کررہے ہیں وہ آرام کا وقت نہ ہو جیسا کہ ظہر کے بعد یا رات کا وقت لہٰذا ایسے اوقات میں فون کرنے سے گریز کیا جائے جو آرام کے اوقات ہوں ۔ فون کرنے کے لیے مناسب وقت کی رعایت بہت ضروری ہے ۔ فون کرنے کی مدت کا بھی تعین رکھنا چاہیے : کتنے ایسے لوگ ہیں جو فون کرنے بیٹھتے ہیں تو گھنٹوں باتیں کرتے رہتے ہیں ، ایک مسلمان زندگی کے کسی بھی شعبے میں افراط سے کام نہیں لیتا ۔ فون پر ہمارے جتنے پیسے برباد ہو رہے ہیں اگر اس میں سے ہلکی سی کٹوتی کرلیں تو میں سمجھتا ہوں ہمارے کئی ایک معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ بہرکیف عرض مدعایہ ہے کہ فون پر ہذیان گوئی، بیکار گفتگو اور ضیاع وقت سے پرہیز کرنا چاہیے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب