کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 229

اس کے برعکس پچھلے چند سالوں سے دینی مزاج رکھنے والے افراد نے قرآنی آیات کو رنگ ٹون کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے ،حالانکہ ایسا کرنا بھی صحیح نہیں ہے ،عصر حاضر کی متعدد فتوی کمیٹیوں نے اس کی حرمت کا فتوی دیا ہے جن میں مفتیٔ مصر ،سعودی عرب کے کبار علماء ،اور رابطہ عالم اسلامی کی اسلامی فقہ اکیڈمی قابل ذکر ہے ، کیونکہ اس میں قرآن کی بے حرمتی کا پہلو پایا جاتا ہے جیسے بیت الخلا ء میں فون آجائے یا لہوولعب کے اڈے پر رِنگبجنے لگےاسی طرح اگر رنگ دیتے وقت فون اٹھالیاجاے تو بسااوقات آیت منقطع ہوکر رہ جاتی ہے ،یا الفاظ ادھورے رہ جاتے ہیں جس سے معنی کچھ کا کچھ ہوجاتا یا مبہم رہ جاتا ہے ، اگر ایک آدمی سنجیدگی سے غور کرے تو اسے خود سمجھ میں آجاے گا کہ واقعی اس سے قرآنی آیات کی بے حرمتی ہوتی ہے، کوئی عقل مند آدمی یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اس میں قرآنی آیات کی تعظیم وتکریم ہے جبکہ ہمیں حکم ہے کہ قرآنی آیا ت کی تعظیم وتکریم کریں، کیونکہ یہ ہمارے خالق ومالک کا کلام ہے جو ہماری ہدایت کے لیے اترا ہے۔ SMSسے متعلق ہدایات موبایل فون میں باہمی ربط کا دوسرا طریقہ مختصر پیغام رسانی ہے جسے انگلش میں Short Message Service کہا جاتا ہے۔ اس کا مخفف S.M.Sہے پیغام رسانی کا یہ ذریعہ نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہے اس طریقہ کو استعمال کرتے وقت درج ذیل نکات کو مدنظر رکھیں : (1) ضروری پیغام( Message )ہی ارسال کریں :  فضول اور خواہ مخواہ SMS مت کریں ، ہمارے ہاں فضول میں SMS کرنے کی بیماری اس قدر عام ہوچکی ہے کہ ایک ہی Messageکئی لوگوں کی طرف سے بار بار وصول ہوتاہے۔ (2) موقع کی مناسبت سے میسج بھیجیں : اپنے دوستوں جاننے والوں ، عزیز رشتہ داروں کو موقع کی مناسبت سے SMS بھیجیں ، مثلاً : عیدمبارک، رمضان المبارک کی آمد، شادی بیاہ پر خوشی کے اظہار اور غمی کے مواقع پر تعزیت وغیرہ کے Messageبھیجے جاسکتے ہیں ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب