کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 233

ترجمہ: ’’جب بھی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی اگاتا ہے پھر اس سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو اگانے والے مسلمان کو صدقہ کا اجر ملتا ہے ‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے : ’’إذا قامت الساعة وبيد أحدكم فسيلة فإن استطاع ألا يقوم حتى يغرسها فليفعل‘‘  ترجمہ:’’اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں بیج ہو تو اگر وہ اس بات کی قوت رکھتا ہو کہ اٹھنے سے پہلے اسے زمین میں بو دے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے زمین میں بو دے‘‘۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسب حلال کی طرف خاص توجہ دلائی ہے تاکہ معاش و معیشت کا معاملہ درست انداز میں چلتا رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ’’ ما أكل أحد طعاما قط خيرا من أن يأكل من عمل يده ، وإن نبي الله داود كان يأكل من عمل يده‘‘  ترجمہ: ’’کسی بھی شخص کا بہترین کھانا جو اس نے کھایا ہے وہ کھانا ہے جو اس نے اپنے ہاتھ سے کمایا ہے ، اور اللہ کے نبی داود u اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے‘‘ اسلام میں غذا کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان پاکیزہ چیزیں کھائے جو اسے اعمال صالحہ کرنے کے لئے قوت فراہم کریں اور خبائث و مضر صحت چیزوں سے بچے جو اس کے جسم کو یا عقل کو نقصان پہنچانتی ہیں یا تزکیہ نفس میں حائل ہوتی ہیں، اسی لئے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالی نے طعام اور اعمال صالحہ کا ایک ساتھ تذکرہ فرمایا ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلّٰهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ} [البقرة: 172] ترجمہ :’’ اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو‘‘ اسی طرح خاص طور پر انبیاء و رسولوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : { يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ } [المؤمنون: 51]

  • فونٹ سائز:

    ب ب