کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 236

ترجمہ: ’’ اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے‘‘۔ اس حوالہ سے یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ جس قصاب سے گوشت لیا جائے تو اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ مشرک تو نہیں ہے ؟ ، یا پھر وہ ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام لیتا ہے یا نہیں ؟ اور اگر مرغی یا جانور خود ذبح کروائے تو قصاب کو خاص تاکید کرے کہ وہ اس پر اللہ کا نام لے، اور سب سے بہتر تو یہ ہے کہ خود ہی جانور کو ذبح کیا جائے۔ اور اگر کسی قصاب کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ مشرک ہے تو اس سے گوشت ہرگز نہ خریدیں کیوں کہ مشرک کاذبیحہ حلال نہیں ہے۔ البتہ اگر علم نہیں کہ اس گوشت پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں تو اگر آپ کسی مسلم معاشرہ میں ہیں جہاں زیادہ تر افراد مسلمان ہیں اور ذبح کا کام بھی عموماًوہی کرتے ہیں تو پھر آپ وہ گوشت خرید سکتے ہیں اور کھاتے وقت اللہ کا نام لے کر کھائیں ، جیسا کہ صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ : کچھ لوگ (مدینہ کے باہر سے ) ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں (بیچنے کے لئے ) ہمیں نہیں پتا کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ،تو کیا ہم وہ گوشت کھا سکتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خود اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ‘‘ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ صحابہ کرام کو یہ خدشہ اس وجہ سے تھا کہ گوشت لانے والے اکثر افراد نو مسلم تھے اور انہیں احکامات کا زیادہ علم نہیں تھا‘‘ اور اگر آپ ایسے علاقہ میں ہیں جہاں غیرمسلم کی تعداد زیادہ ہے تو اگر غیر مسلم اہل کتاب ہیں یعنی عیسائی یا یہودی ہیں تو آپ وہ گوشت کھاسکتے ہیں بشرطیکہ وہ جانور شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو، کیونکہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہےاگر شرعی طریقہ سے ذبح کیا جائے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے : {الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ } [المائدة: 5] ترجمہ:’’ آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں ۔ اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے ‘‘۔ اور اگر غیر مسلم اہل کتاب کے علاوہ ہیں تو وہ گوشت کھانا حرام ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب