کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 237

مردار مردار سے مراد وہ حلال جانور ہے جو بغیر شرعی ذبح کے مر جائے۔مردار کے حرام ہونے کی حکمت یہ ہے کہ اکثر مردار جانور کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوکر مرتے ہیں ، اگر مردار کا گوشت کھایا جائے تو وہ بیماری کھانے والے کو بھی لگ سکتی ہے ، پھر مردار جانور جب مرتا ہے تو اس کا خون بہتا نہیں ہے بلکہ جسم میں ہی رہ جاتا ہے اور دوران خون بند ہونے کے بعد یہ رکا ہوا خون جانور کے جسم میں مختلف خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مختلف مقامات پر مردار کو حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ } [البقرة: 173] ترجمہ:’’اس نے تم پر مرا ہوا جانور حرام کر دیا ہے‘‘۔ ہماری بد نصیبی ہے کہ ہمارے معاشرے میں نام نہاد مسلمان اپنی ایمانی کمزوری اور خوف الہٰی نا ہونے کے سبب ایسے گھناؤنے کاروباروں میں ملوث ہیں کہ غیر مسلم ایمان نہ ہونے کے باوجود صرف انسانیت کے ناتے ہی اس کاروبار سے نفرت کرتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مردار جانوروں کا گوشت بیچتے ہیں ، اور عموما ہوٹل مالکان جانتے بوجھتے ا ن سے یہ مضر صحت حرام گوشت خرید کر اپنے ہوٹلوں پر پکاکر گاہکوں کو کھلاتے بھی ہیں۔ ایسا گوشت جو نہ صرف مضر صحت ہے بلکہ مسلمان پر حرام بھی ہے وہ انجانے میں مسلمانوں کو کھلایا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔اسی لئے ہمیں خود اس معاملہ میں انتہائی احتیاط برتتے ہوئے عموما گھر کے کھانے پر اکتفاء کرنا چاہئے ، اور اگر باہر کھانا ہو تو ایسی چیز کھانی چا•ہئے جس میں شک نہ رہے مثلامچھلی وغیرہ، اور گوشت کھانا ہو تو صرف ایسی جگہ سے کھانا چاہئے جس کے بارے میں ہمیں یقین ہو کہ یہاں پر گوشت حلال مل سکے گا۔ خنزیر اللہ تعالیٰ نے خنزیر کے گوشت کو نہ صرف قطعی حرام قرار دیا ہے ، بلکہ اس کے گوشت کو ناپاک بھی قرار دیا ہے ، اللہتعالیٰ کا فرمان ہے : { قُلْ لَّآ أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ} [الأنعام: 145]

  • فونٹ سائز:

    ب ب