کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 238

ترجمہ: ’’کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا۔ بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سُور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں‘‘۔ سُور ایک ایسا قبیح جانور ہے کہ اگر کوئی سلیم الفطرت شخص اسے دیکھے تو یقینا بغیر کسی دلیل کے بھی وہ اس کو گوشت کو مضر صحت قرار دینے پر مجبور ہوگا، یہ جانور ہر طرح کی غلاظت کو بڑے شوق سے کھاتا ہے اور اس کے اندر بے حیائی اور بے غیرتی کے اوصاف بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ سور کاصرف گوشت ہی حرام نہیں بلکہ وہ مکمل سراپا نجس اور حرام ہے، اس کا گوشت ، چربی ، ہڈیاں اور کھال وغیرہ سب حرام اور ناپاک ہیں ۔ سور کے گوشت اور چربی میں جو جراثیم پائے جاتے ہیں ،اور یہ جراثیم انسانی صحت کو جو نقصان پہنچاتے ہیں آج کے جدید سائنسی دور میں یہ بات اب کسی سے مخفی نہیں رہی ۔ہمارے لئے صرف اللہ کاحکم کافی ہے جو حکیم وعلیم ہے اور اپنی مخلوق کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے اور اپنے اسی علم کی روشنی میں اس نے ہمارے لئے حلال و حرام مقرر فرمائے ہیں ۔ درندے ہر وہ جانور جس کی کچلیاں (وہ نوکیلے دانت جو سامنے کے چار دانتوں کے بعد آتے ہیں )ہوں اور وہ شکار کرتا ہو تو اسے کھانابھی حرام ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’ہر وہ شکاری جانور جس کی کچلیاں ہوں اسے کھانا حرام ہے‘‘۔اس میں شیر ، چیتے ، سمیت تمام درندے شامل ہیں ، اور کتے کا گوشت بھی اسی اصول کی رو سے حرام ہے۔ پالتو گدھا پالتو گدھے کا گوشت بھی حرام ہے ، حدیث میں آتا ہے کہ خیبر والے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ صدا لگائی :’’بے شک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمادیا ہے‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب