کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 24

آئے ، رخصت کیجئے ۔ بھاری جوڑے بنوائیے ۔ دوبارہ کرایہ دینے آئیے ۔ ادھر کمین لوگ دُھویا لاتے ہیں ۔ اس میں بھی انعام ہر ایک کو دیا جانا ضروری ہے ۔ تقاضا ہورہاہے جس قدر دیجئے تھوڑا ہے ۔ سرکار برسوں خدمت کرتے گزارا ہے ۔ آج خوشی نے منہ دکھایا ہے ۔ سب کچھ دیا مگر ان کا منہ سیدھا نہیں ۔ جب لڑکا نہ ہوا تھا ، پیر شہید کی منتیں مان بیٹھے تھے ۔ اب وہ کیونکر نہ کی جائیں ۔ یاران چوری نہ پیران دغابازی مثل مشہور ہے ۔ سیکڑوں روپیہ منّتوں کے لیے چاہیے ۔ میران کا بکرہ ، پیردستگیر کی گیارہویں ۔ میاں معین کی دیگ ۔ کہاں تک کہیے ۔ مسجدوں میں گھی کے چراغ ۔ درگاہوں پر ہاتھی گھوڑے چڑھاتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں لڑکے کو اگر کوئی گھر سے باہر بھی لے گیا تو آفت آئی ۔ ہیں ہیں نظر لگ جائے گی ۔ دودھ کے بال ہیں ۔ منہ میں دودھ بھرا ہے ۔ کوئی دیکھ نہ لے ، دوچار برس کا ہوگیاہے ۔ پیاری پیاری باتیں کرتاہے ، کھیل تماشے کرتا ہے ، کوئی دیکھ سن نہ پائے یا ماں گود میں چڑھائے ہے ۔ بچہ کے پاؤں نہ دُکھنے لگیں اور کوسوں بھیجا تو بہت دور ہے ۔ ہاں جو بڑے جاہل ہیں ، وہ منزلوں کی راہ طے کرکے درگاہوں میں لے جاکر قبر کے سامنے لڑکے کو رکھ دیتے ہیں اور صد ہا روپیہ چڑھاتے ہیں ۔ درگاہ کے تعویذ گنڈے سونے چاندی میں منڈھواکر اس کے گلے میں ڈالتے ہیں ۔ پھر راہ کی مصیبت جھیلتے ہوئے مرپٹ کے گھر پہنچتے ہیں ۔ اگر کسی وجہ سے درگاہ نہ پہنچنا ہوا تو سمجھتے ہیں کہ ابھی یہ فرض باقی ہے ۔ جب تک وہاں نہ ہو آئے گا ، بچے پر سیکڑوں آفتیں رہیں گی ۔ ہائے بے علمی بھی کیا بری بلا ہے ۔ اگر سمجھ ہوتی تو اپنی کمائی ایسے بے فائدہ کاموں میں کیوں صرف کرتے ۔ ‘‘ اسلامی اقدار واطوار پر مبنی معاشرے کی تشکیل عصرِ حاضر میں کیسے ممکن ہے ؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ لن يصلح آخر هذه الأمة إلا بما صلح به أولهاـ‘‘ اس امت کے آخر کے لوگوں کی اصلاح بھی اسی چیز سے ہوگی جس سے پہلوں کی اصلاح ہوئی ہے ۔ دور حاضر کے اپنے معاشرے کو ہم اگر شرعی خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے

  • فونٹ سائز:

    ب ب