کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 241

خلاصہ یہ ہے کہ آج کل ہماری خوراک کے بیشتر اجزا ء باہر کی چیزوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو کہ ہماری نظروں کے سامنے تیار نہیں ہوتے یا ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں کون سی اور کیسی چیزیں استعمال کی گئی ہیں، اور اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ کھانے پینے کی یہ اشیاء ، یا ان کے مصالحہ جات تیار کرنی والی کمپنیاں عموما ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوتی ہیں جو کہ غیر مسلموں کی ملکیت ہیں ، اور غیر مسلموں کے ہاں حلال اور حرام کا کوئی فرق موجود نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں دو چیزوں کا علم بہت ضروری ہے: 1اسلام میں غیر مسلم مصنوعات کا کیا حکم ہے: عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو اسلام نے غیر مسلم مصنوعات کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے ،البتہ اگر ان کا تعلق کھانے پینے سے ہے تو اس کا معاملہ الگ ہے ، لیکن عام اشیاء مثلا لباس ، جوتے ، دیگر استعمال کی چیزوں پر کوئی پابندی نہیں ہے سوائے ان پابندیوں کے جو مسلم مصنوعات کے حوالہ سے بھی ضروری ہیں ، یعنی لباس میں خواتین کا موٹا لباس ہونا ، جسم کا مکمل چھپ جانا، برتنوں میں سونے چاندی کے برتن کا نہ ہونا، جوتوں وغیرہ میں حرام جانور کی کھال کا نہ ہونا، اور اسی طرح کی دیگر وہ تمام شرائط جن کا تعلق مسلم یا غیر مسلم سے نہیں بلکہ اشیاء اور ان کی بناوٹ سے ہے ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جہاں تک کھانے پینے کی اشیاء کا تعلق ہے تو جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اگر ان اشیاء کا تعلق نباتات سے ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، لیکن اگر ان اشیاء کا تعلق حیوانات سے ہے تو پھر اس میں کم از کم تین چیزوں کا ضرور علم ہونا چاہئے: وہ حیوان حلا ل ہے یا حرام ہے؟ اگر وہ حیوان حلال ہے تو اس کا ذبح کرنے والا مسلمان یا اہل کتاب میں سے ہے یا پھر غیر مسلم اور غیر اہل کتاب میں سے ہے۔ اگر مسلمان ہے یا اہل کتاب میں سے ہے تو اس کاذبیحہ حلا ل ہے ، اور اگر غیر مسلم ہے اور اہل کتاب میں سے بھی نہیں ہے تو اس کا ذبیحہ حرام ہے۔ اگر اس کو ذبح کرنے والا مسلمان ہے یا اہل کتاب میں سے ہے تو کیا اسے شرعی طریقہ سے ذبح کیا

  • فونٹ سائز:

    ب ب