کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 253

ھندو مت اور وراثت جس مذہب میں انسانیت کو چار طبقاتی تقسیم میں منقسم کردیا گیاہو۔ ۱۔ برہمن : یہ طبقہ مذہبی پنڈت یا روحانی پیشواپر مشتمل ہے۔ ۲۔ کشتری :یہ طبقہ اشراف و امراءپر مشتمل ہے۔ ۳۔ ویش :یہ طبقہ کارو باری طبقہ پر مشتمل ہے۔ ۴۔ شودر: یہ طبقہ خدمت گزار ی ا ورنوکرقسم کے افراد پر مشتمل ہے۔ ان تقسیمات میں انسان کو بانٹ دیا گیا ہو تو وہ مذہب کیسے عادلانہ نظام وراثت دے سکتا ہے!! مزید یہ کہ جو اس طبقے سے بھی خارج ہیں، انہیں تو معاشرے سے خارج ہی سمجھا جاتا ہے۔ان کی وراثت کو ظاہر سی بات ہے غصب ہی کیا جائے گا۔ بہرحال ان تمام مذاہب کے مقابلے میں اسلام نے جو نظام دیا وہ پیش خدمت ہے۔ اسلام کے عادلانہ نظام وراثت کی خصوصیات مختصر طور پر مختلف ادیان کے غیر عادلانہ نظام وراثت کو بیان کیا گیا ہے،اب ہم آئندہ سطور میں اسلام کے عدل پر مبنی نظام کے چند نکات کو بیان کئے دیتے ہیں تاکہ دیگر ادیان اور اسلام کے دئیے گئے نظام میں تقابل آسان ہوجائے۔ سب سے پہلے یہ بات جان لی جائے کہ کسی وراثت کی تقسیم کو بنیادی طور پر دو اقسام کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے۔ زندگی میں کسی کو اپنے مال کا وارث بنانا (جسے ہبہ سے تعبیر کیا جاتا ہے)اور موت کے بعد وارث بننا ۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ان دونوں طریقوں سے وارث بنا جاسکتا ہے،لیکن دونوں طریقوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ مگر عدل کا طریق بہرحال دونوں صورتوں میں قائم ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب