کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 257

کےتین اسباب ہیں،نکاح ،ولاء ،قرابت۔تو اس شرط میں بھی ورثاء کے استحقاق کی حفاظت کی گئی ہے جو عین عادلانہ ہے، اس شرط کی روسے کوئی غیر وارث ،حقیقی وارث کے حصے کو غصب یا ہتھیا نہیں سکتا۔ مزید عدل کا عالم یہ ہے کہ اب شخص ان تین شروط پر پورا اترتے ہوئے میت کا وارث بننے کا اہل ہے لیکن اگر شرعی موانع میں کوئی ایک مانع بھی آگیا تو وارث نہیں بن سکتا ۔موانع بھی تین ہیں ۔ غلام ہونا :غلام نہ خود وارث بن سکتا ہے اور نہ ہی اس کا وارث بناجاسکتا ہے۔کیونکہ اس کی ساری کمائی مالک کی ملکیت ہوتی ہے۔ اس میں عدل کا پہلو یہ ہے کہ عام طور پر جنگوں کے دوران غیر مسلم قیدی لوگ غلام بن جاتے ہیں۔لہذا ایسے غیر مسلم جنہیں غلام بنایا گیا ہے کہیں وراثت کے طریق سے ان کے لئے کوئی مدد کا سلسلہ نہ بن جائے اور وہ اپنے مالک کے حقوق ادا نہ کرے۔ دوسرے نمبر پر یہ حکمت بھی نظر آتی ہے کہ اس غلام کی وجہ سے آزاد وارثوں کو نقصان نہ پہنچے۔ ظاہر سی بات ہے اس غلام کو وراثت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے مالک کی ملکیت ہوجانا کیونکہ غلام کا سب کچھ اس کے مالک کا ہے۔ اس طرح وہ مال نہ غلام کا رہا اور نہ ہی آزاد وارث کا۔شریعت نے اس ضابطے کے ذریعے ظلم و جبر کے بہت بڑے راستے کو بند کیا ہے،یوں سمجھ لیں کہ اس ضابطے کی وجہ سے بس ایک شخص غلام ہواور اگر یہ اصول ختم ہوجائے صرف وہ شخص ہی غلام نہیں رہے گا بلکہ اس غلامی کی لپیٹ میں اس کے تمام قریبی رشتے دار آجائیں گے۔ قتل:قاتل اپنے مورث کو کردے ،جس پر قصاص یا دیت لازم ہو،اس قتل کی وجہ سے یہ قاتل وراثت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس میں حکمت یہی نظر آتی ہے کہ مال و دولت کا حرص اور حصول مال کی جلدی کی بناء پر وہ اس طرح کا گناہ نہ کرے۔گویا کہ کسی مال ہتھیانا جہاں کسی دوسرے کے لئے ناممکن وہیں شرعی وارث بھی ناجائزطریقے سے ہتھیا نہیں سکتا۔ دین کا مختلف ہونا:مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ اور وجہ اس میں بھی یہی

  • فونٹ سائز:

    ب ب