کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 263

کرو ۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناگوار ہو مگر اللہ نے اس میں بہت بھلائی رکھ دی ہو۔‘‘ جیسا کہ گزشتہ سطورمیں گزر چکا کہ یہودیت اور دیگر مذاہب میں عورت کا وارث بن جانا بہت مشکل ہے،لیکن اسلام نے عورت کی مختلف حیثیتوں کو سامنے رکھا اور ان حالتوں کی حیثیت کے بقدر اس کا حصہ مقرر کیا۔جیسا کہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ عورت ماں کی حیثیت سے اولاد یا ایک سے زائد بہن بھائی کی موجودگی میں چھٹے حصے کی مستحق ٹھہرتی ہے۔(دیکھئے سورۃ النساء کی آیت نمبر11) ورنہ کل مال سے ایک تہائی ملے گا۔ اور ایک صورت میں ماں کو باقی ماندہ کا ایک تہائی مال ملے گا۔ اور وہ یہ ہے کہ ورثاء میں خاوند ،ماںاور باپ یا بیوی ماں اور باپ ہوں۔جسے مسئلہ عمریتین کے نام سے جانا جاتاہے۔ عورت بیٹی کی حیثیت سے بیٹی کی حیثیت سے اگر اولاد میں اکیلی بیٹی ہی ہے تو اسے نصف مال ملے گا۔ ایک سے زائد بیٹیاں ہوںتو انہیں دو تہائی مال ملے گا۔ اور اگر بیٹے و بیٹیاں دونوں ہوں تو مرد کو دو حصے اور عورت کو ایک حصہ کے اصول کے تحت مال تقسیم ہوگا۔(دیکھئے سورۃ النساء :11) عورت بہن کی حیثیت سے بہنوں کی کئی صورتیں ہیں ،مثلاً سگی بہن ،علاتی بہن (باپ کی طرف سے بہن )، اخیافی بہن (ماں کی طرف سے بہن ) ۔ان تینوں حیثیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے حصے میں بھی تبدیلی آئے گی جیسا کہ درج ذیل ہے۔ سگی بہن اگر سگی بہن اکیلی ہے اور میت کی کوئی اولاد نہیں تو اس صورت میں بہن کو آدھا مال ملے گا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب