کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 265

عورت دادی اور نانی کی حیثیت سے اگر میت کی ماں موجود نہیں اور نانی ،دادی ہے تو یہ چھٹے حصے کی حق دار ہیں۔ ماں کی موجودگی میں دونوں کو کچھ نہیںملے گا اور باپ کی موجودگی میں دادی کو کچھ نہیں ملے گا۔ عورت پوتی/پڑ پوتی (الی ما نزل )کی حیثیت سے اگر وہ اکیلی ہے اور میت کا بیٹا ،بیٹی اور پوتے کی عدم موجودگی میں اگر پوتی اکیلی ہے تو نصف مال کی حق دار اور ایک سے زائد ہیں تو دو تہائی مال کی حق دار ہیں۔اور اگر بیٹی بھی ہے اور پوتی بھی تو بیٹی کو نصف اور پوتی کو تکملۃ للثلثین(یعنی بیٹیوں کے حصے دو تہائی کو پورا کرنے کے لئے ) چھٹا حصہ ملے گا۔اور اگر پوتا موجود ہے تو عصبہ بن جائے گی،اصحاب الفرائض سےبچا ہوا باقی ماندہ پوتا ،پوتی میں للذکر مثل حذ الانثیین (مرد کے دو، عورت کا ایک حصہ)کے اصول کے تحت تقسیم ہوگا۔اور اگر میت کا بیٹا موجود ہے چونکہ باقی ماندہ مال وہی لے لے گا ایسی صورت میں پوتی یا پوتےکوکچھ بھی نہیں ملے گا۔ خلاصہ اس ساری تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام مختلف صورتوں میں عورت کی حیثیت کے بقدر اس کا حصہ بھی تبدیل ہورہا ہے۔ لہذا اسلامی نظام وراثت میںتفصیلی طور پر عورت کی تمام حیثیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسے مناسب حصہ دیا گیا ہے۔ جبکہ دیگر مذاہب اسے سرے سے محروم کررہے ہیں۔ باطل شبہ کا ازالہ عام طور پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے نظر آتے ہیںکہ اسلام عورت کو کم حصہ دیتا ہے اور مرد کو زیادہ حصہ دیتا ہے ۔ یہ شبہ بالکل باطل ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہر وارث کو اس کی حیثیت ،میت سے قرابت اور ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ہوئے حصہ دیتا ہے،جس میں ورثاء کے حصے میں باہم تفاوت لازمی امر ہے،جہاں تک عورت کے حصے کا تعلق ہے اس کا معاملہ بھی یہی ہے،جہاں اس کاحصہ زیادہ ہے وہاں

  • فونٹ سائز:

    ب ب