کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 266

اس کی قرابت اور ذمہ داری کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ کبھی مردوں کاباہم ایک دوسرے سے حصہ کم زیادہ ہوسکتا ہےاورکبھی دو عورتوں کا حصہ آپس میں ایک دوسرے سے کم زیادہ ہوسکتا ہے، اسی طرح مرد و عورت کا حصہ بھی ایک دوسرے سے کم اورزیادہ ہوسکتا ہے۔اور وجہ ان کی حیثیتوں کا فرق ہے۔ دوسری بات جو بڑی اہم ہے ہمیشہ عورت کا مرد سے حصہ کم نہیں ہوتا ،بلکہ اس میں خاصی تبدیلیاں آتی ہیں۔ جیساکہ درج ذیل ہیں۔ کبھی عورت کا حصہ مرد کی بہ نسبت زیادہ ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ایک شخص فوت ہوا اور اس کے ورثاء میں اس کی بیٹی اور والدین ہیں ۔اب اس صورت میں بیٹی کو آدھا مال مل جائے گا اور ماں کو کل مال سے چھٹا حصہ ملے گااور بقیہ باپ کو ملے گا،یوں سمجھ لیں گے 100 روپے میں سےپچاس روپے بیٹی کو ملے اور 6.16 روپے ماں کو ملے اور باقی 4.33 روپے باپ کو ملیں گے۔ اب اس صورت میں بیٹی( جوکہ ایک عورت ہے) میت کے باپ (جوکہ ایک مرد ہے) سے زیادہ حصہ لے رہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ واضح مثال پر غور کریں ایک عورت مال وراثت چھوڑ کر فوت ہوئی،ورثاء میں بیٹی ،شوہر اور باپ ہیں۔ بیٹی کو آدھا حصہ ملے گا ،شوہر کو چوتھا حصہ ملے گا اور باپ کو باقی ماندہ مال ملے گا، یوں سمجھ لیں گے 100 روپے میں سےپچاس روپے بیٹی کو ملے اور 25 روپے شوہر کو ملے اور باقی 25روپے باپ کو ملیں گے۔ اب اس مثال میں غور کریں ایک عورت کو اتنا مال ملا جوکہ دو مردوں کو مل رہا ہے۔ کبھی مرد کی به نسبت کم ہوتا ہے۔مثال کے طور پر پانچ حالتوں میں مرد کو عورت کی بہ نسبت دگنا مال ملتا ہے، دو حالتوں کا تعلق باپ اور ماں سے ہے، (1) جب میت کے ورثاء میں صرف والدین ہی ہیں اور کوئی اولاد بھی نہیںتو باپ کا حصہ ماں سے دگنا

  • فونٹ سائز:

    ب ب