کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 267

ہوجاتا ہے، کہ ماں کوایک تہائی اور باقی دوتہائی باپ کو مل جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ میت کے باپ کے ذمے میت کی ماں کی(جوکہ اس کی بیوی ہے) کفالت ہے۔ (2)ورثاء میں میت کی صرف بیٹی اور والدین ہیں۔ایسی صورت میں بیٹی کو نصف اور ماں کوچھٹا حصہ، باقی ماندہ باپ کومل جائے گا جوکہ ثلث بچے گا۔ اور یہاں دگنا دینے میں بھی یہی مصلحت ہے کہ میت کی ماں کا واحد کفیل باپ ہے جوکہ اس کا شوہر ہے شرعاً بیٹی میت کی ماں یعنی اپنی دادی کی کفیل نہیں۔ واضح رہے کہ ایک صورت میں ماں باپ کا حصہ برابر ہوجاتا ہے،جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ باقی تین صورتیں یہ ہیں۔ (1) شوہر کی بیوی کی بہ نسبت دگنا ،اوروجہ بھی واضح ہے کہ شوہر کے ذمہ بیوی اور بچوں کی کفالت بھی ہے۔ (2) میت کی اولاد میں مذکر کو مؤنث کی بہ نسبت دگنا ملے گا۔ وجہ بھی واضح ہے کہ ان بیٹوں پر میت کی بیٹیوں (جوکہ ان کی بہنیں ہیں) کی کفالت کا ذمہ ہے اور ان کی تربیت سے لے کر شادی تک کے معاملات انہیں کے ذمے ہیں۔ (3)میت کے بہن بھائیوں میں بھی باہم تقسیم اسی طرح ہوگی کہ مذکر کو مؤنث کی بہ نسبت دگنا ملے گا،وجہ وہی ہے جو ابھی مذکور ہوئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان پانچ صورتوں میں مذکر کا حصہ مؤنث سے دگنا ہے اور اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ تو لہٰذا اس میں عورت میں کسی قسم کی زیادتی نہیں ،بلکہ اس کے لئے مرد کی بہ نسبت آسانی ہی ہے،کیونکہ وہ اپنے حصے کو چاہے بچائے یا خرچ کرے لیکن مرد پر تو اس کی کفالت لازم ہے اس لئے اس کے لئے بچاکر رکھنا تو مشکل ہے۔ کبھی مرد کے برابر بھی ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر میت کے اخیافی (ماں کی طرف سے بہن بھائی ) کا حصہ ان کے درمیان مذکر و مؤنث میں برابر برابر تقسیم کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر میت کی اولاد میں بیٹے موجود ہیں ،ایسی صورت میں ماں باپ کا حصہ برابر ہوجاتا

  • فونٹ سائز:

    ب ب