کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 270

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ:’’(تمام) بادشاہت اللہ ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔ یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور ) قدرت والا ہے۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ 49:50) دور جاہلیت میں بچوں کی پیدائش کو خوش بختی اور بچیوں کی پیدائش کو نحوست سے تعبیر کیا جاتا تھا جس کا اشارہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس طرح دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: ’’حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی ( کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ ( غم کے سبب) کالا پڑجاتا ہے اور اس کے دل کو (دیکھو تو) وہ اندو ہناک ہوجاتا ہے۔اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور) سوچتا ہے کہ آیا ذلت برداشت کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔‘‘(النحل:58تا59) افسوس کا عالم یہ ہے کہ آج بھی ایسی جہالت موجود ہے جس کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم اور تربیت میں ماں باپ اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کرتے جس کی بنا پر خسارہ پورا معاشرہ اٹھاتا ہے جس بچی کی بنیاد ی تربیت نہ کی جائے اس سے میں اور آپ یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ بہترین عورت ، بہترین ماں بنے گی۔ حالانکہ احساس کمتری کی بنا پر وہ ہر ایسا کام کرے گی جو اس کے والدین کے لئے بھی اور بطور مومن عورت اس کے لئے بھی ذلت کا باعث بنے گا حالانکہ اسلام نے آکر ان تمام ناپسندیدہ رسومات اور خیالات کی مذمت کی جو بچیوں کو کراہت اور نحوست کی نظر سے دیکھے جانے کا ذریعہ بنتے ہیں اور خصوصاً بچی کی پیدائش سے لے کر اس کی ذمہ داری ، نگہداشت تک کرنے کو رحمت و جنت کے حصول کا ذریعہ بنادیا ہے۔ لڑکی کی پیدائش رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں ایسے والدین کو بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے جن کو بیٹیوں کی نعمت سے نوازا جاتا ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب